ویڈیو: عام طور پرسمجھا جاتا ہے کہ آیورویدک دواؤں کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے، کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی پروڈکٹ ‘قدرتی’ ہے تو اس کے منفی اثرات نہیں ہوں گے ۔ لیکن یہ مکمل سچائی نہیں ہے۔ کسی بھی طرح کے ریگولیشن کی عدم موجودگی میں یہ دوائیں عام لوگوں کے صحت پر سنگین اور مضر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ‘سوال صحت کا’ کے اس ایپی سوڈ میں اسی بارے میں بات کی گئی ہے۔
ویڈیو: گزشتہ دس سال ملک کے مختلف اداروں کے لیے بھی اہم رہے ہیں۔ نریندر مودی کے گزشتہ دس سالوں کے دور اقتدار میں سپریم کورٹ کے جج کس راہ پر چلے، آئین کے سرپرست اس کے تحفظ میں کس حد تک کامیاب رہے، اس بارے میں قانونی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی سورو داس سے بات کر رہے ہیں دی وائر کے آشوتوش بھاردواج۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کی ہیٹ اسپیچ پر الیکشن کمیشن کی خاموشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے بی جے پی لیڈروں کو فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے۔
ابھی تک آس تھی کہ شاید اس بار بی جے پی ترقی اور مثبت ایجنڈہ کو لے کر میدان میں اترے گی، کیونکہ مسلمان والا ایشو حال ہی میں کرناٹک کے صوبائی انتخابات میں پٹ گیا تھا، جہاں ٹیپو سلطان سے لے کر حجاب وغیرہ کو ایشو بنایا گیا تھا۔ مگر ابھی راجستھان میں جس طرح کی زبان انہوں نے خود استعمال کی اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو یہ طے ہوگیا کہ 2024 کے ترقی یافتہ ہندوستان کا یہ الیکشن پولرائزیشن اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ہی لڑا جائے گا۔
ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان کے بانس واڑہ میں ایک انتخابی ریلی میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ایک مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہوگا۔ لیکن کیا منموہن سنگھ نے سچ میں ایسا کہا تھا؟
ویڈیو: منی پور میں مئی 2023 میں ایک ریلی کے بعد پھوٹنے والا تشدد اب تک پوری طرح سے ختم نہیں ہوا ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو کر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ایسے میں کیا یہاں کے عام لوگ لوک سبھا انتخابات کے لیے تیار بھی ہیں؟ اس بارے میں دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ویڈیو: لوک سبھا انتخابات 2024 میں آزاد سماج پارٹی کے ٹکٹ پر چندر شیکھر آزاد مغربی اتر پردیش کی نگینہ سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ چندر شیکھر آزاد نے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ وہ غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔
ویڈیو: ہمنتا بسوا شرما کی قیادت والی آسام کی بی جے پی حکومت پر لگاتارفرقہ پرستی کو بڑھانے کا الزام لگتا رہا ہے اور لوک سبھا انتخابات سے پہلے ان کے مختلف بیان اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسری جانب سی اے اے قوانین کو مطلع کیے جانے کے بعد مقامی لوگ ناراض ہیں اور اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ وہاں کے انتخابات میں کون سے ایشوز مؤثر ہوں گے، اس بارے میں دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے بات کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
ویڈیو: ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں— ایکسیس ناؤ اور گلوبل وٹنیس نے حال ہی میں جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یوٹیوب نے اپنے پلیٹ فارم پر ایسے اشتہارات کی اجازت دی ہے، جس میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس بارے میں ایکسیس ناؤ کے رمن جیت سنگھ چیما اور گلوبل وٹنیس کے ہنری پیک سے بات چیت۔
ویڈیو: لوک سبھا کے ساتھ ساتھ سکم میں اسمبلی انتخابات بھی ہو رہے ہیں، جہاں حکمراں ایس کے ایم دوبارہ جیت کی امید کر رہی ہے لیکن اسے اپوزیشن ایس ڈی ایف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ وہیں، میگھالیہ اور تریپورہ کی دو — دو لوک سبھا سیٹوں پر بھی دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تینوں ریاستوں کی سیاست پر دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے تبادل خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
وزرائے اعظم کے انتخابی حلقوں کے رائے دہندگان وی آئی پی سیٹ کے گمان میں بھلے جیتے رہیں، لیکن اس سے ان کے سماجی و سیاسی شعور پر کوئی فرق پڑتا نظر نہیں آتا۔ اور نہ ہی وزیر اعظم کی موجودگی ایسے علاقوں کے مسائل کو حل کر پاتی ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، رام مندر کی تعمیر کا ایشو کچھ زیادہ ووٹروں کو لبھا نہیں پا رہا ہے۔ ہندو ووٹر خوش تو ہیں کہ رام مندر بن گیا، مگر یہ اس کے ووٹ کرنے کی وجہ نہیں بن پا رہا ہے۔ ہاں ان جائزوں کے مطابق جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ووٹروں پر یقینا اثر انداز ہو رہا ہے۔
ویڈیو: ناگالینڈ اور میزورم میں ایک ایک لوک سبھا سیٹ ہے، جس کے لیے ووٹنگ 19 اپریل کو ہونی ہے۔ جہاں ناگالینڈ میں علیحدہ ریاست کا مطالبہ مؤثر ہے، وہیں میزورم میں اسمبلی میں کرشمے کی طرح ابھرنے والی زورام پیپلز موومنٹ قبائلی برادری کے مسائل پر بات کر رہی ہے۔ اس معاملے پر دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
تین اور چار اپریل کی رات تقریباً 1 بجے ‘بولتا ہندوستان’ کی ٹیم کو ایک ای میل میں بتایا گیا کہ حکومت کی ہدایت پر ان کا چینل بلاک کر دیا گیا ہے۔ جب ٹیم کی جانب سے پوچھا گیا تو جواب دیا گیا کہ یہ کارروائی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کی وجہ سے کی گئی ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت انتخابات کے آغاز کے اعلان سے پہلے سرکاری اخراجات پر بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلا چکی ہے۔ اس طرح وہ اس ریس میں پہلے ہی دوڑنا شروع کر چکی تھی جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس کے آغاز کے اعلان کا انتظار کر رہی تھیں۔
ویڈیو: آئندہ 19 اپریل کو اروناچل پردیش میں لوک سبھا کے ساتھ ہی اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ تاہم، سی ایم پیما کھانڈو سمیت بی جے پی کے دس امیدوار ایسے ہیں جن کے انتخابی حلقوں میں ان کے خلاف کوئی پرچہ نامزدگی داخل نہیں کیا گیا ہے اور انہیں ووٹنگ سے پہلے ہی ‘جیتا’ ہوا مانا جا رہا ہے۔ کیا یہ جمہوریت میں عوام کے اپنے نمائندوں کے انتخاب کرنے کے حق کے لیے خطرہ ہے؟ ریاستی سیاست پر دی وائر کی سینئر صحافی سنگیتا بروآ پیشاروتی سے بات چیت ۔
بھارت آدی واسی پارٹی نے اپنے قیام کے صرف ڈھائی ماہ بعد ہوئے راجستھان اور مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات 2023 میں 35 حلقوں (27 راجستھان اور 8 مدھیہ پردیش) میں الیکشن لڑ کر 4 سیٹوں پر جیت حاصل کی ۔
گاندھی اور نہرو کا ماڈل ٹوٹ چکا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں نریندر مودی کے عروج کے ساتھ دلدل مزید گہری ہو گئی ہے۔ اگر کانگریس یا اس کے لیڈران واقعی ملک کو اس دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں یا اپنے آپ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ان کو ہندوتوا نظریات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے سوشلسٹوں کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
ویڈیو: بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں مختلف مرکزی ایجنسیوں کی جانچ کے دائرے میں غیر بی جے پی یا اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے بی جے پی میں شامل ہونے پر سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
اپنی جمہوری امیج کو چمکانے کے لیے ‘مدر آف ڈیموکریسی’ ہونے کے دعوے سے شروع ہوا ہندوستانی حکومت کا سفر فی الوقت ڈیموکریسی ریٹنگ گڑھنے کے مقام تک پہنچ گیا ہے۔ ابھی یہ کون کون سے ہفت خوان طے کرے گا اس کے بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جا سکتی۔
ویڈیو: دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ کے وکیل اور کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی سے بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
مرکزی حکومت نے 2021 میں ملک میں پرائیویٹ اداروں کو سینک اسکول چلانے کی اجازت دی تھی۔ دی رپورٹرز کلیکٹو کے مطابق، 40 پرائیویٹ سینک اسکولوں میں کم از کم 62 فیصد اسکول ایسے تھے جو آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں، بی جے پی کے رہنماؤں، اس کے سیاسی اتحادیوں، ہندوتوا تنظیموں، افراد اور دیگر ہندو مذہبی تنظیموں سے وابستہ تھے۔
کچاتھیو جزیرے کی سیاسی تاریخ اور اس معاملے پر بی جے پی کی طرف سے کھڑا کیا گیا تنازعہ بتاتا ہے کہ طویل عرصے سے تمل ناڈو میں سیاسی زمین تلاش کر رہی پارٹی کے لیے یہ موضوع رائے دہندگان کو لبھانے کا ذریعہ محض ہے۔
ان انتخابات کے نتائج نے ترکیہ کے مستقبل کی ممکنہ سمت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ یہ انتخابات اقتصادی پالیسی میں تبدیلی اور عالمی سطح پر ترکیہ کے ایک نئے کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کا بیانیہ صرف قیادت میں تبدیلی سے متعلق نہیں ہے۔ یہ ملک کے سیاسی اور سماجی تانے بانے میں ایک گہری تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے لائی گئی الیکٹورل بانڈ اسکیم کی وجہ سے ہی سیاسی چندے کے ذرائع کے نام سامنے آئے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے چندہ دینے والوں کے نام چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔
محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے کانگریس کو 1823 کروڑ روپے کا نوٹس بھیجے جانے کے بعد سی پی آئی نے کہا کہ اسے پرانے پین کارڈ استعمال کرنے کے لیے محکمہ سے نوٹس موصول ہوا ہے۔ وہیں، سی پی آئی (ایم) کو 2016-17 کے ٹیکس رٹرن میں بینک اکاؤنٹ کا اعلان نہ کرنے پر 15.59 کروڑ روپے کا وصولی نوٹس بھیجا گیا ہے۔
الیکٹورل بانڈ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے والوں کی فہرست میں کئی فارما کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سے متعدد کمپنیوں کی ادویات کئی بار ڈرگ ٹیسٹ میں فیل ہوئی ہیں۔
اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے وقت کشی نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کو پوری تکنیکی صلاحیت سے لیس کیے بغیر ہی اس کا افتتاح کر دیا گیا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ محض شو پیس بن کر رہ جانے والا ایئرپورٹ افتتاح کے 28 ماہ بعد بھی گھریلو اور غیر ملکی پروازوں کے لیے ترس رہا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع میں تبدیلی لانے کے عمل کو ‘جسٹ ٹرانزیشن’ کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم، ملک کی دو ریاستوں چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں کوئلے پر انحصار کرنے والے کچھ گاؤں کے لوگوں کی حالت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس طرح کی تمام تبدیلیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ویڈیو: دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں لوک سبھا انتخابات سے عین قبل دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی ای ڈی کے ذریعے گرفتاری کے بارے میں ان کے کابینہ وزیر سوربھ بھاردواج سے بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق بڑے جلسوں یعنی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہر جلسے پر 50 کروڑروپے کی لاگت آتی ہے، اس میں ان کی نقل و حمل کی لاگت شامل نہیں ہے، کیونکہ اس کا خرچہ ہندوستانی فضائیہ اور ان کی حفاظت پر مامور اسپیشل پروٹیکشن گروپ کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ڈاکوؤں کی وجہ سے بدنام علاقہ چنبل کے کئی ڈاکوؤں نے سول سوسائٹی ترون بھارت سنگھ کی مدد اور حوصلہ افزائی کے بعد تشدد، لوٹ مار اور بندوقیں چھوڑ کر پانی کے بحران کا سامنا کر رہے اس علاقے میں پانی کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ورلڈ واٹر پیس ڈے کے موقع پر ان میں سے کئی کو اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی ایم ایل اے اور شیبو سورین خاندان کی بہو سیتا سورین کے بی جے پی میں شامل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی مانڈو سے بی جے پی ایم ایل اے اور اسمبلی میں پارٹی وہپ جئے پرکاش بھائی پٹیل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ ان کا نام کچھ دن پہلے بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر بنائے جانے کے لیے اچھالا گیا تھا۔
الیکٹورل بانڈز خریدنے والے سرفہرست پانچ گروپوں / کمپنیوں میں سے تین نے سب سے زیادہ چندہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دیا، جبکہ دو نے اپنے چندے کا سب سے بڑا حصہ ترنمول کانگریس کو دیا۔
دی وائر کے ساتھ ایک انٹرویو میں آسام کانگریس کے صدر بھوپین بورا نے کہا کہ چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما کے ایجنٹ پارٹی کے اندر ہیں، وہ یہ بات جانتے ہیں اور وہ ہمنتا سے پاک کانگریس چاہتے ہیں۔
گزشتہ 12 مارچ کو جاری کیا گیا دستاویز منطق سے عاری، شہریوں کی آزادی کی نفی کرنے والا اور پوری طرح سے گمراہ کن ہے۔
جنوبی ہندوستان کو فتح کرنے کے لیے ان دنوں مودی مسلسل ان صوبوں کے دورے کر رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ صرف شمالی ہندوستان کا لیڈر ہونے کا دھبہ مٹا کر ملک گیر لیڈر کے بطور اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جنوبی ہندوستان کو فتح کیے بغیر وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی وراثت کو تاریخ کے صفحات سے مٹا نہیں سکتے ہیں یا اپنے آپ کو نہرو ثانی کے بطور پیش نہیں کرسکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کو سونپے گئے گئے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے حلف نامے میں پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسے 10 اپریل 2019 سے 26 اپریل 2019 کے درمیان الیکٹورل بانڈ کے ذریعے 13 کروڑ روپے ملے، لیکن پارٹی نے چندہ دینے والوں میں سے صرف دو کے ناموں کا ہی انکشاف کیا ہے۔
ویڈیو: 18ویں لوک سبھا کے لیے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا کہ جمہوریت کے لیے غیر جانبداری ضروری ہے، لیکن کیا آئندہ لوک سبھا انتخابات ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ ہیں؟ اس حوالے سے سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔
الیکٹورل بانڈ کے توسط سے سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینے والوں میں سڑک، کان کنی اور انفراسٹرکچر سے متعلق بڑی کمپنیوں کا شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ بھلے چندے کی رقم سیاسی جماعتوں کو مل رہی ہو، لیکن ان کی حقیقی قیمت عام آدی واسی اور محنت کش طبقے کو ادا کرنی پڑ رہی ہے، جن کے وسائل کو سیاسی طبقے نے چندے کے عوض ان کمپنیوں کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔