اگر ہندوستان کو اپنے جمہوری ڈھانچے، آئینی اقدار اور انتظامی شفافیت کو بچانا ہے، تو اسے 2010 کے ترکیہ کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ امتحانی نظام کی مکمل اور غیر جانبدارانہ شفافیت صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ یہ عوامی سلامتی اور جمہوریت کی بقا کا بنیادی شرط ہے۔
وزارت تعلیم کا موجودہ بحران صرف پیپر لیک، نیٹ تنازعہ یا این ٹی اے کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالوں تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے اس کی اہمیت ان فوری مسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’یہ استعفیٰ نہیں، انقلاب ہے۔‘
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ جمہوریت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا پہلا مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن ابھی دو مطالبے باقی ہیں۔ وہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے نوجوانوں کی جیت اور مودی حکومت کے غرور کی شکست قرار دیا ہے۔
دہلی سمیت ملک بھر کی کئی ریاستوں میں جاری نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان سنیچر کی دوپہر سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لکھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ بھیج چکے ہیں۔
کیا لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ ایک نئی شروعات کرتے ہوئے نکل پڑے ہیں۔
جمعہ کو مرکزی حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کہا کہ اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اگلے ایک دو دن کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو پارٹی ایک اور ملک گیر تحریک کا اعلان کرے گی۔ مرکزی حکومت نے سی جے پی کو سنیچر (25 جولائی) دوپہر 3:30 بجے پھر سے بات چیت کے لیے بلایا ہے۔
پیپر لیک کے بعد 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ کے ری-اگزام میں شامل ہونے والے ایک درجن سے زیادہ امیدواروں نے امتحان سے چند دن پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ 19 سالہ ثنا شیخ بھی انہی طلبہ میں ایک تھیں۔ ان کے والدین طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں دہلی کے جنتر منتر پہنچے اور انہوں نے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں طلبہ کی تحریک پر پارلیامنٹ میں جواب دینا چاہیے تھا، نہ کہ یکطرفہ ویڈیو پیغام جاری کرنا چاہیے تھا۔ کھڑگے نے وزیر اعظم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے اور طلبہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ وہیں، راہل گاندھی نے پیپرلیک معاملے میں حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ سے تحریک سے دور رہنے کی اپیل کرنے پر دہلی یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
طلبہ کے مسائل پر بحث اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر مسلسل چوتھے دن بھی پارلیامنٹ کی کارروائی بغیر کسی کام کاج کے بار بار ملتوی ہوتی رہی، اور آخرکار پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔پارلیامنٹ کے باہر جب صحافیوں نے کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا سے احتجاج اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا،’وزیراعظم ایوان میں نہیں آ رہے ہیں، اور آپ اپوزیشن سے پوچھ رہے ہیں کہ ایوان کیوں نہیں چل رہا؟ ‘
لوک سبھا کی توسیع اور وسیع حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131واں ترمیمی) بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہ ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے خواتین کے نام پر آئین کو توڑنے کے لیے غیر آئینی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کو روک دیا۔ وہیں، بل خارج ہونے کے بعد این ڈی اے کی خواتین اراکین پارلیامنٹ نے پارلیامنٹ کے احاطے میں دھرنا دیا۔
لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک پر پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے 193 اراکین نے دستخط کیے تھے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں نے سوموار کو اس تحریک کو مسترد کر دیا۔ تاہم، اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
اپوزیشن نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیامنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور الزام لگایا کہ اسپیکر کے طور پر برلا نے جانبدارانہ انداز میں کام کیا۔ ان الزامات میں دسمبر 2023 میں 100 اراکین پارلیامنٹ کی معطلی بھی شامل ہے۔
بہار میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ڈرامے کا مرکزی کردار اسٹیج پر تو موجود ہے، مگر اپنی ہی کہانی سنانے سے قاصر ہے۔ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کے عروج کے ساتھ جو سیاسی ڈراما سامنے آیا تھا، وہ اسی طرح کی سیاست کا ایک خاکہ تھا۔ بہار میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اس کہانی کا دہراؤ کم اور ایک نئی تشریح کی طرح زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
لوک سبھا میں منگل کو انتخابی اصلاحات پر بحث شروع ہوئی۔ اس دوران اپوزیشن نے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ایس آئی کارروائی آر کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر غیر جانبداری کے فقدان کا الزام لگایا اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔
پارلیامنٹ کا سرمائی اجلاس سوموار کو شروع ہوا ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر، دہلی بم بلاسٹ کے بعد قومی سلامتی، اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ میں ڈراما نہیں ڈیلیوری ہونی چاہیے۔ نعروں کے لیے پورا ملک خالی پڑا ہے۔
کانگریس نے مودی حکومت پر یو اے پی اے کا غلط استعمال کرتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے طلبہ، صحافیوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پرتشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس نے ہی اس قانون کی بنیاد رکھی تھی اور اس میں سخت دفعات شامل کیےتھے۔
مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ کو مطلع کیا کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی اسکیم کے تحت 81.35 کروڑ مستفیدین کو شامل کرنے کے ہدف کے مقابلے ریاستوں کے ذریعے 80.56 کروڑ مستفیدین کی شناخت کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 79 لاکھ مستفیدین کو ابھی بھی مفت راشن ملنا باقی ہے۔
وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجمدار نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ ‘سہ لسانی فارمولے میں زیادہ لچیلا پن ہوگا’ اور طلباء کے ذریعے سیکھی جانے والی زبانیں ‘ریاست، علاقے اور یقیناً طالبعلم کی اپنی پسند پر منحصر ہوں گی۔’
جمعرات (19 دسمبر) کو پارلیامنٹ کے احاطے میں اپوزیشن اور بی جے پی کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیامنٹ نے راہل گاندھی کو پارلیامنٹ میں داخل ہونے سے روکا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ وہیں، بی جے پی نے راہل گاندھی پر اپنے ارکان پارلیامنٹ کو چوٹ پہنچانے کا الزام لگایا۔
وزیر اعظم نریندر مودی آئین کے آگے ماتھا ٹیکتے ہیں اور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر کے سامنے ادب سے سر کو خم کرتے ہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ دلت ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کا شو آف ہے۔
ویڈیو: بدھ کو پارلیامنٹ میں زبردست ہنگامہ آرائی کے درمیان بابا صاحب امبیڈکر کا نام سرخیوں میں رہا۔ جہاں اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ریمارکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، وہیں ان کے دفاع میں خود پی ایم مودی مورچہ سنبھالتے نظر آئے۔
گزشتہ 17 دسمبر کو راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اب ایک فیشن ہوگیا ہے – امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر، امبیڈکر۔ اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنموں کے لیے جنت مل جاتی۔’
ویڈیو: پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران صحافی کانچ کے ’پنجرے‘ میں نظر آئے۔ کیا یہ صورتحال مودی حکومت میں میڈیا کی حالت کی عکاسی کرتی ہے؟ سینئر صحافی ونود شرما اور دی وائر کی صحافی شراوستی داس گپتا کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں میناکشی تیواری۔
نو سو اکہتر (971) کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی پارلیامنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد 10 دسمبر 2020 کو رکھا گیاتھا اور 28 مئی 2023 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ بدھ کو دہلی میں ہوئی شدید بارش کے درمیان نئے کمپلیکس کی ایک لابی میں پانی گرنے کا ویڈیو سامنے آیا ہے۔
تلنگانہ کے گوشہ محل سے بی جے پی کے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ نے گوا میں منعقد ویشوک ہندو راشٹر مہوتسو کے اختتام پر کہا کہ ان دنوں کئی سیاستدان کٹر ہندو لیڈر ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں لیکن الیکشن جیتنے کے بعد سیکولر بن جاتے ہیں۔ ایسے ایم پی اور ایم ایل اے ‘ہندو راشٹر’ کے قیام کے لیے بیکار ہیں۔
شفیق الرحمن برق ملی امورپر بولنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اور ملت کا درر ان کے د ل و دما غ سے جھلکتا تھا۔ بابری مسجد کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ رام مند ر کی تعمیر ہوئی تو کیا ہوا، وہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کرانے کی اپنی جدوجہد سے کنارہ کشی نہیں کریں گے۔
ویڈیو: لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر لوک سبھا میں بولتے ہوئے ایوان میں کانگریس کے ایم پی گورو گگوئی کو تقریر کے دوران کئی بار ٹوکا تھا۔ اس پر گگوئی نے کہا کہ اپوزیشن ممبران پارلیامنٹ کو ان کی تقریر کے دوران روک دیا جاتا ہے لیکن حکمراں پارٹی کے ممبران ایوان میں کوئی بھی معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔
دسمبر 2023 کو دو افراد نے لوک سبھا کی وزیٹرگیلری سے ہال میں چھلانگ لگا کر دھوئیں کے کین کھول دیے تھے۔اس معاملے میں گرفتار کیے گئے پانچ بے روزگار نوجوانوں نے الزام لگایا کہ انہیں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ غلط طریقے سے جوڑنے کے لیے عدالتی حراست میں بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یو اے پی اے کے تحت جرم قبول کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔
ویڈیو: الیکشن کمیشن، پارلیامنٹ سے معطل ہوئے اپوزیشن کے ممبران، نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ کی توہین کیے جانے کے دعوے سمیت ملک کی سیاست کے مختلف مسائل پر سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل سے بات کر رہے ہیں سابق گورنر ستیہ پال ملک۔
ممکری کے واقعے پر اپنی جاٹ پہچان کا حوالہ دینے والے نائب صدر جگدیپ دھن کھڑ جاٹ برادری کی دو حالیہ تحریکوں – زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج اور پہلوانوں کے مظاہرہ کے دوران خاموش تماشائی تھے۔
ویڈیو: پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس سے کل 146 اپوزیشن ممبران پارلیامنٹ معطل کر دیے گئے، جو پارلیامنٹ کی سکیورٹی میں کوتاہی کے معاملے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے بیان کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مودی حکومت نے اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کے بغیر بھی کئی اہم بلوں کو پاس کیا۔ اس سلسلے میں آر جے ڈی ایم پی منوج جھا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: ان نوجوانوں کی زندگی اور اہل خانہ کی بات، جنہوں نے13 دسمبر کو پارلیامنٹ میں گھس کر حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا۔ دی وائر کے اجئے کمار بتا رہے ہیں کہ اس پورے معاملے کو صرف پارلیامنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی تک محدود کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ نوجوانوں کی کہانی بتاتی ہے کہ یہ معاملہ ہندوستان کی بدحالی سے جڑا ہوا ہے۔
گزشتہ بدھ کو دو افراد لوک سبھا کی وزیٹرگیلری سے ہال میں کودے اور دھوئیں کے کین کھول دیے تھے۔ اس سیکورٹی لیپس کے بعد ان لوگوں کے علاوہ تین دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایک شخص کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملزم منی پور تشدد، کسانوں کی تحریک، مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے ایک پیغام دینا چاہتے تھے۔
سال 2001 کے پارلیامنٹ کے حملے کی برسی کے موقع پر بدھ کو دو نامعلوم افراد وقفہ صفر کی کارروائی کے دوران لوک سبھا میں گھس گئے اور ایک نے ایوان میں ایک کین سے پیلا دھواں چھوڑا۔ ارکان پارلیامنٹ کے ذریعے پکڑے جانے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دھواں زہریلا نہیں تھا۔
ویڈیو: حال ہی میں پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران بی ایس پی ایم پی دانش علی کو فرقہ وارانہ طور پر گالی گلوچ کرنے والے بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کو پارٹی نے راجستھان اسمبلی کے لیے ٹونک ضلع کا الیکشن انچارج بنایا ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔