Manipur

منی پور وائرل ویڈیو پر بھی مودی کی نفرتی فوج نے فرضی خبر سے بنایا فرقہ وارانہ ماحول

ویڈیو: نیوز ایجنسی اے این آئی نے منی پور میں کُکی خواتین کی برہنہ پریڈ کے واقعہ کے حوالے سے فرضی خبر ٹوئٹ کیا۔ جس میں عبد الحلیم نامی شخص کو ملزم بتایا گیا۔ بتایا گیا کہ منی پور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ حالاں کہ ان گرفتاری ایک دوسرے معاملے میں ہوئی تھی۔ بعد میں اے این آئی نے اس ٹوئٹ کو ہٹا لیا۔

منی پور کا کُکی اسی طرح خوفزدہ ہے جس طرح نواکھلی کا ہندو تھا، لیکن کیا ملک میں کوئی گاندھی ہے

ہندوستان کی تاریخ میں نواکھلی کا تشدد اور مہاتما گاندھی کا وہاں رہ کر قیام امن کے لیے کردار ادا کرنا دونوں ہی قابل ذکر ہیں۔ اگر منی پور میں واقعی امن قائم کرنا ہے، تو وہاں کسی مہاتما گاندھی کو جانا ہوگا۔

منی پور کے سی ایم بولے – خواتین کی برہنہ پریڈ اور ان پر جنسی تشدد کے ویڈیو سے ریاست کی شبیہ خراب ہوئی

منی پور میں دو کُکی خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کا لرزہ خیز ویڈیو سامنےآنے کے بعد وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے اس سلسلے میں ریاست گیر احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ ریاست کے لوگ خواتین کو ماں کا درجہ دیتے ہیں، لیکن کچھ شرپسندوں کی وجہ سےریاست کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔

منی پور: میتیئی خواتین کے ایک گروپ  نے کُکی خواتین کی برہنہ پریڈ کرانے والے ملزم کے گھر میں آگ لگائی

گزشتہ 4 مئی کو تین کُکی خواتین پر میتیئی کمیونٹی کے مردوں کے ہجوم نے حملہ کیاتھا،اور ان کی برہنہ پریڈ کرائی تھی۔ خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی بھی کی گئی تھی۔ بدھ کو اس واقعے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چار ملزمین کی گرفتاری ہوئی ہے۔

منی پور پر لمبی خاموشی کے بعد بیان دے کر وزیر اعظم نے اپنی پرتشدد سیاست کو ہی اجاگر کیا ہے

ویڈیو: منی پور میں دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری نسلی تصادم کے درمیان وہاں خواتین کے ساتھ ہوئی زیادتی کا ایک ہولناک ویڈیو سامنے آیا، اس کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا۔ اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور ڈی یو کے پروفیسر اپوروانند ۔

منی پور ویڈیو: مودی جی! اب بیان نہیں، استعفیٰ دیجیے

ویڈیو: منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کے واقعے کا خوفناک ویڈیوسامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار منی پور تشدد کے حوالے سےکوئی بیان دیا ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

شمال–مشرق میں پچھلے 7 سالوں کے دوران منی پور حکومت نے سب سے زیادہ گن لائسنس جاری کیے

ویڈیو: منی پور میں گزشتہ دو ماہ سے اکثریتی میتیئی کمیونٹی اور کُکی برادری کے درمیان نسلی تشدد جاری ہے۔ اب آر ٹی آئی کے تحت یہ جانکاری ملی ہے کہ شمال–مشرقی ریاستوں میں منی پور حکومت نے پچھلے 7 سالوں میں سب سے زیادہ بندوق کے لائسنس جاری کیے ہیں۔

منی پور تشدد کو ’سرکاری سرپرستی‘ کا نتیجہ قرار دینے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ارکان کے خلاف کیس

گزشتہ 28 جون سے1 جولائی کے درمیان نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے منی پور کا دورہ کیا تھا۔ اس کے تین ارکان اینی راجہ، نشا سدھو اور دکشا دویدی کے خلاف ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے، اکسانے اور ہتک عزت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

منی پور تشدد: دی وائر کو انٹرویو دینے پر ایک پروفیسر اور دو کُکی کارکنوں کو کورٹ کا نوٹس

منی پور میں جاری تشدد کے حوالے سے حیدرآباد یونیورسٹی کے پروفیسر خام خان سوان ہاؤزنگ، کُکی مہیلا منچ کی کنوینر میری گریس زاؤ اور کُکی پیپلز الائنس کے جنرل سکریٹری ولسن لالم ہینگ شنگ نے دی وائر کے لیےکرن تھاپرکو انٹرویو دیا تھا۔ الزام ہے کہ انٹرویو کے دوران دیے گئے ان کے بیانات نے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکایا تھا۔

منی پور کے سابق گورنر نے کہا-ریاست میں حالات کشمیر اور پنجاب میں دیکھے گئے حالات سے بھی بدتر

منی پور کے سابق گورنر گربچن جگت نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ریاست بھر میں پولیس اسٹیشنوں اور پولیس کے اسلحہ خانوں پر حملے کیے گئے ہیں اور ہزاروں بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود لوٹ لیا گیا ہے۔ جموں کشمیر، پنجاب، دہلی، گجرات کے بدترین دور میں بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔

منی پور تشدد: کیسے بے گھر، بے سہارا اور اپنے ہی ملک میں ریفیوجی بنے صوبے کے لوگ

ویڈیو: منی پور میں دو ماہ سے نسلی تشدد جاری ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ لوگ اپنے گھر اور زمین چھوڑنے کو مجبور ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 70000 سے زائد لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں ، جن کے لیے 350 کے قریب امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ کیسی ہے ان کیمپوں کی حالت؟

دو ماہ سے جاری تشدد کے باوجود وزیر اعظم منی پور کا ’م‘ بھی بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں

تمام سروے بتاتے ہیں کہ نریندر مودی ملک کے سب سے مقبول رہنما ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘انتہائی’ مقبول مودی فرقہ وارانہ فسادات، احتجاجی مظاہرے یا نسلی تشدد کے دوران کوئی اپیل جاری کیوں نہیں کرتے؟ مہاتما گاندھی کے گجرات سے آنے والے مودی منی پور کی مختلف برادریوں کے درمیان جا کر امن کی اپیل کیوں نہیں کرتے؟ دراصل ان کی مقبولیت محض انتخابی ہے۔

منی پور تشدد کے دو مہینے: لوگوں نے کہا – ان کا حال اور مستقبل تباہ، حکومت نے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا

ویڈیو: منی پور میں اکثریتی میتیئی اور قبائلی کُکی کمیونٹی کے درمیان3 مئی کو شروع ہونے والا نسلی تشدد جاری ہے۔ تشدد کے دوران اب تک کم از کم 133 افراد کی جان جا چکی ہی اور لگ بھگ 50000 لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

منی پور تشدد کے متاثرین سے ملے راہل گاندھی، کہا – امن ہی واحد راستہ

ویڈیو: منی پور میں گزشتہ دو ماہ سے جاری نسلی تشدد کے درمیان کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے 29 جون کو ریاست کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے ریلیف کیمپوں میں رہ رہے متاثرہ افراد اور سول سوسائٹی کےممبران وغیرہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔

منی پور تشدد کے درمیان ہندوستانی فوج کی ریاستی خواتین سے اپیل کے کیا معنی ہیں؟

ویڈیو: 26 جون کو ہندوستانی فوج کے اسپیئر کارپس کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں خواتین مظاہرین ‘مسلح فسادیوں’ کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اور ریاست میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مداخلت کر رہی ہیں۔ انہوں نے تعاون کی اپیل بھی کی تھی۔

شمال–مشرقی ریاست منی پور میں تشدد کی لہر

منی پور میں ویسے تو امن کی صورتحال ہمیشہ ہی خراب رہی ہے۔ مگر وزیر اعظم نریند ر مودی اور ان کے دست راست امت شاہ نے مکر و فریب کا سہار ا لےکر ایک ایسا امن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، جو بس اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف تھا۔ حقیقی امن کے لیے کوششیں کرنے کے بجائے، مختلف گروپوں کو الجھا کر وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے کام کیے گئے۔

منی پور تشدد نے ملک و قوم کی روح کو مجروح  کیا ہے: سونیا گاندھی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری نسلی تشدد کے درمیان منی پور کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے24 جون کو نئی دہلی میں ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے منی پور میں امن کی اپیل کی ہے۔

منی پور تشدد: مختلف ایف آئی آر سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کے اسلحہ خانے سے جدید ہتھیار لوٹے گئے

منی پور تشدد کے دوران پولیس کے اسلحہ خانے سے ہتھیارکی لوٹ کے سلسلے میں درج کی گئی مختلف ایف آئی آر کا دی وائر کےذریعے کیے گئے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ اے کے 47 اور انساس رائفل، بم اور دیگر جدید ہتھیار لوٹے گئے ۔شرپسند بلیٹ پروف جیکٹ بھی لے گئے اور پولیس تھانوں میں آگ تک لگا دی۔

’منی پور میں صدر راج کی ضرورت؛ تشدد بند ہونے کے بعد بات چیت کے ذریعے بھروسہ قائم کیا جائے‘

منی پور اسمبلی کے سابق اسپیکر اور کانگریس کے سابق ایم ایل اے ہیموچندر سنگھ نے سینئر صحافی کرن تھاپر سے ریاست میں تشدد پر قابو پانے، امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اعتماد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے ضروری اقدامات کے بارے میں بات کی۔

منی پور: تشدد کے بعد چوڑا چاند پور کا چرچ بنا کُکی برادری کے لوگوں کا سہارا

ویڈیو:منی پور میں مئی کے اوائل میں ہونے والے تشدد کے بعد ہزاروں لوگ نقل مکانی کو مجبو رہوئے ہیں،سینکڑوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔ایسے میں چوڑا چاند پور کا ایک چرچ بے گھر ہونے والےکُکی برادری کے لوگوں کے لیے پناہ گاہ بن گیا ہے ،جہاں تشدد سے متاثرہ تقریباً تین سو لوگ رہ رہے ہیں۔

منی پور میں تشدد بھڑکانے میں چیف منسٹر اور بی جے پی ایم پی کے رول کی جانچ ہونی چاہیے: منی پور ٹرائبلس فورم

منی پور میں گزشتہ ماہ 3 مئی سے ہونے والے نسلی تشدد کے سلسلے میں منی پور ٹرائبلس فورم نے کہا ہے کہ این بیرین سنگھ کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ریاست میں پولرائزیشن کی سیاست دیکھنے کو مل رہی ہے۔فورم نے چیف منسٹر اور بی جے پی کے ایک راجیہ سبھا ایم پی کے مبینہ رول کی جانچ کی اپیل کی ہے۔

کُکی کمیونٹی کا دہلی میں احتجاجی مظاہرہ، منی پور میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ

ویڈیو: منی پور میں آدی واسی اور غیر آدی واسی برادریوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ریاست کے دورے پر ہیں۔ دریں اثنا، کُکی برادری نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرتےہوئے اپنی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور منی پور میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیر داخلہ کی آمد سے قبل منی پور میں زمینی حالات کیا رہے؟

ویڈیو: اس ماہ کے شروع میں منی پور میں تشدد کے بعد گزشتہ ہفتے پھرسے تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ اس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سوموار کو ریاست کے دورے پرپہنچے۔ اس دوران ریاست میں کئی مقامات پر کرفیو نافذ کردیا گیا، بعض علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں بھی سننے ملیں۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے منی پور میں جھڑپیں ہوئی ہیں، سب کو انصاف ملے گا: امت شاہ

منی پور میں پرتشدد جھڑپوں پر اپنے پہلے عوامی بیان میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ چھ سالوں سے ہم سب پرامن طریقے سے ایک ساتھ آگے بڑھے ہیں۔ ایک بھی بند نہیں تھا، ایک بھی ناکہ بندی نہیں تھی۔عدالت کے ایک فیصلےکی وجہ سے جو تنازعہ ہوا ہے،اس کو بات چیت اور پرامن طریقے سےحل کیا جائے گا۔

منی پور: مقامی اور مذہبی پہچان کا پیچیدہ امتزاج شمال–مشرق میں امن کو چیلنج پیش کر رہا ہے

شمال–مشرق میں ذات پات کے تنازعے کی سماجی اور ثقافتی جڑیں گہری ہیں۔ منی پور میں جاری افراتفری اور انتشار نسلی سیاسی عزائم سے وابستہ ہیں۔ بدقسمتی سےشمال–مشرق ہندوستان میں دہائیوں پرانی علیحدگی پسندتحریکوں کے درمیان ذات پات کی تقسیم کو تقویت پہنچانے میں مذہب نے ایک بڑھتا ہوا رول نبھانا شروع کر دیا ہے۔

منی پور میں حالیہ تشدد کی وجہ کیا ہے؟

ویڈیو: منی پور میں میتیئی کمیونٹی کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے خلاف 3 مئی کو نکلی ریلیوں کے بعد تشددمیں کم از کم 54 افراد مارے گئے، کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی اور سینکڑوں لوگ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبورہوگئے۔اس بارے میں بتا رہی ہیں دی وائر کی نیشنل افیئرز ایڈیٹر سنگیتا بروآ پیشاروتی۔

راہل گاندھی نے کہا – بی جے پی کی نفرت اور تشدد کی سیاست سے جل رہا ہے منی پور

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ بی جے پی کی تشدد کی سیاست کا نتیجہ آج منی پور میں نظر آرہا ہے۔ منی پور جل رہا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کرناٹک میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

کرناٹک انتخابی مہم میں مصروف مودی منی پور تشدد اور جموں و کشمیر میں جوانوں کی موت پر خاموش ہیں

منی پور میں پچھلے کچھ دنوں سے تشدد جاری ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے میں پانچ جوان شہید ہوگئے ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کرناٹک میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ان دونوں واقعات پر اب تک نہ تو کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کےبارے میں کسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سات وجوہات، جن سے پتہ چلتا ہے کہ منی پور تشدد کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے

منی پور میں حالیہ تشدد کے درمیان جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ برادریوں کے بیچ تنازعات کی تاریخ والی اس ریاست کو سنبھالنے میں اگر وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ ذرا سابھی احتیاط سے کام لیتے تو حالیہ کشیدگی کے لیے ذمہ دار بہت سی وجوہات سے بچا جا سکتا تھا۔

منی پور میں تشدد کے درمیان 2 دنوں میں 13 لوگوں کی موت

منی پور کی اکثریتی میتیئی کمیونٹی اپنے لیے شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ مانگ رہی ہے، آدی واسی کمیونٹی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے آئینی حقوق متاثر ہوں گے ۔گزشتہ 3 مئی کو ریاست میں ایک آدی واسی طلبہ تنظیم کی طرف سے میتیئی کمیونٹی کے مطالبات کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

منی پور: حکومت نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست کی تاریخ پر مبنی کتاب پر پابندی عا ئد کی

منی پور حکومت نے آنجہانی بریگیڈیئر سشیل کمار شرما کی کتاب ‘دی کمپلیکسٹی کالڈ منی پور: روٹس، پرسیپشنز اینڈ ریئلٹی’ میں درج معلومات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ کتاب میں منی پور ریاست کے ہندوستان میں الحاق سے متعلق تاریخ بیان کی گئی ہے۔

دہلی: سیڈیشن کیس میں شرجیل امام کو ضمانت ملی

دہلی کی ایک عدالت نے جے این یو کے سابق طالبعلم شرجیل امام کو سیڈیشن کے معاملے میں ضمانت دی ہے، جس میں ان پر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی تقریر کے ذریعےدنگا بھڑکانے کا الزام تھا۔ تاہم دہلی فسادات سے متعلق مقدمات کی وجہ سے انہیں فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔

’ہمارے وزیر اعظم کو آسام کے بارے میں ٹوئٹ کرنے میں پانچ دن لگے‘

ویڈیو: آسام سیلاب سے بری طرح متاثر ہے۔ تبت سے ہوتے ہوئے آسام پہنچنے والی برہم پترا ندی میں ہر سال آنے والے سیلاب سے ریاست کی ایک بڑی آبادی متاثر ہوتی ہے۔ اس سال سیلاب کی وجہ سے اب تک 139 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آسام کے لوگوں کو ہر سال اس تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دی وائر کی رپورٹ۔

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے شرجیل امام نے عبوری ضمانت کے لیے عرضی داخل کی

رواں سال جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے 2019 کے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شرجیل امام کے خلاف سیڈیشن کا الزام طےکیا تھا۔ اسی ماہ سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر غوروخوض ہونے تک اس سے متعلق تمام کارروائیوں پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے۔

اسمبلی انتخابات: پانچ ریاستوں میں تقریباً آٹھ لاکھ ووٹروں نے نوٹا کا بٹن دبایا

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی طور پر انتہائی اہم مانے جانے والےاتر پردیش میں، جہاں سب سے زیادہ 403 اسمبلی سیٹیں ہیں، وہاں 621186 ووٹرز (0.7 فیصد) نے ای وی ایم میں ‘نوٹا’ کا بٹن دبایا۔ شیوسینا کو گوا، اتر پردیش اور منی پور کے اسمبلی انتخابات میں نوٹا سے بھی کم ووٹ ملے۔