بتایا جا رہا ہے کہ 27 جون کو دہلی کے نریلا میں ایک 9 سالہ بچی کے ساتھ گینگ ریپ کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، جس جگہ سے بچی کی لاش ملی اس کے بالکل سامنے پولیس چوکی ہے۔
حکومت کی بے حسی کی وجہ سے گرمی کا بحران شدید ہو جاتا ہے۔ شیلٹر ہوم بہت کم ہیں، انتہائی خستہ حال ہیں۔ مثال کے طور پر دہلی گیٹ کے شیلٹر ہوم کی صلاحیت 150 بتائی جاتی ہے، لیکن عمارت کا رقبہ 3229.28 مربع فٹ ہے، جس میں صرف 65 افراد ہی سما سکتے ہیں۔
شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ مزدوروں کاہے۔ ایسے میں یوپی کے اینٹ بھٹوں میں کام کرنے والے مہاجر مزدور (فائر مین) لکڑی کی بوسیدہ چپلوں، لیموں، نمک اور چینی کے سہارے جھلسا دینے والی گرمی میں انتہائی مشکل حالات میں کام کرنے کو مجبور ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے چوراہوں، پارکوں، تالابوں اور ندی گھاٹوں کی تزئین کاری کی گئی ہے۔ تقریباً ہر سڑک فور لین ہو رہی ہے۔ پورے شہر کا منظر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن ان تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اور نقل مکانی کے شکار لوگوں کی حالت زار سننے والا کوئی نہیں ہے۔
بی جے پی جو اس ریاست کو بھگوا بنانا چاہتی ہے، یہ نہیں جانتی کہ دیودار کے جنگلات اپنی زندگی کی توانائی مقامی دیویوں سے حاصل کرتے ہیں اور برفانی پہاڑوں پر اس کرہ ارض کی چند بے مثال اور قدیم بدھ خانقاہیں سرد دھوپ میں چمکتی ہیں۔
گورکھپور کے جس سہسراؤں گراؤنڈ میں پسینہ بہانے کے بعد 3800 لڑکے اور 28 لڑکیوں کا انتخاب گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں فوج اور نیم فوجی دستوں میں کیا گیا، وہاں آج ویرانہ آباد ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کی وجہ سے نوجوانوں میں فوج کے لیے جوش و جذبہ ختم ہو گیا ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ: ہماچل پردیش کی منڈی سیٹ سے بی جے پی کی امیدوار کنگنا رناوت اپنی تقریروں میں یہ نہیں بتاتی ہیں کہ منڈی یا ہماچل کے لیے ان کا وژن کیا ہے۔ انہوں نے اسے ‘مودی جی’ پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کے سامنے کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ ویربھدر سنگھ کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ کھڑے ہیں، جن کی یہ موروثی سیٹ ہے۔
جی بی روڈ کی زیادہ تر سیکس ورکرز کے لیے لوک سبھا انتخابات اور اس کے نتائج کوئی معنی مطلب نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے برسوں سے ان کے لیے کچھ نہیں کیا، اس لیے اب کوئی امید بھی نہیں ہے۔ یہ علاقہ چاندنی چوک پارلیامانی حلقہ کے تحت آتا ہے، جہاں اس بار ‘انڈیا’ الائنس سے کانگریس کے جے پی اگروال اور بی جے پی کے پروین کھنڈیلوال کے درمیان مقابلہ ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ: 2020 میں فسادات کی زد میں آنے والے پارلیامانی حلقہ شمال-مشرقی دہلی کے رائے دہندگان منقسم ہیں۔ جہاں ایک طبقہ بی جے پی کا روایتی ووٹر ہے، وہیں کئی لوگ فرقہ وارانہ سیاست سے قطع نظر مقامی ایشوز پر بات کر رہے ہیں۔ یہاں بی جے پی کے منوج تیواری اور ‘انڈیا’ الائنس کے کنہیا کمار کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔
کئی انتخابات کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے ایشوز عام لوگوں تک پہنچے ہیں اور ان کا اثر بھی پڑ رہا ہے۔
دیگر رپورٹس بھی بتاتی ہیں کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت منتخب ہونے والے بہت سے نوجوانوں نے ٹریننگ کے درمیان ہی نوکری چھوڑ دی تھی۔ یہ نوجوان فوج کی نوکری میں جانا تو چاہتے ہیں، لیکن اگنی پتھ نے ان کے جذبے پر پانی پھیر دیا ہے۔
اتراکھنڈ کے کئی گاؤں فوجیوں کے گاؤں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ریاست کی معیشت اور سماجی نظام کا ایک بڑا حصہ فوج سے وابستہ ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کے آنے کے بعد یہ نظام بحران کا شکار ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر کی تین لوک سبھا سیٹوں، سری نگر، بارہمولہ اور اننت ناگ-راجوری میں سے کسی پر بھی انتخاب نہیں لڑ رہی ہے۔ وہیں ‘انڈیا’ اتحاد کی دو اہم جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو پایا۔ دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ جموں و کشمیر سے دی وائر کی گراؤنڈ رپورٹ۔
سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ جب آپ لڑکوں کو چار سال کے معاہدے پر بھرتی کریں گےتو ممکن ہے کہ کہیں کم اورکمتر لڑکے فوج میں جائیں گے، جن کے اندر جنون کم ہوگا، اور ملک کے لیے جذبہ ایثار و قربانی بھی نہیں ہوگا۔ کیا فوج کو اس سطح اور معیار کے جوان مل پائیں گے جو انہیں مطلوب ہیں؟
مدھیہ پردیش کے گوالیار-چنبل علاقے میں فوج میں جانے کی لمبی روایت رہی ہے۔ مثال کے طور پر، اب تک ہر بھرتی میں مرینا کے قاضی بسئی گاؤں کے 4-5 نوجوان فوج میں چنے جاتے تھے۔ اگنی پتھ اسکیم کے شروع ہونے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ گاؤں سے کوئی بھی نہیں چنا گیا۔ فوج کی بھرتی پر انحصار کرنے والے یہ نوجوان اب انجانے کام کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
ویڈیو: مہاراشٹر کی کولہاپور لوک سبھا سیٹ پر 7 مئی کو ووٹنگ ہوگی۔ یہاں ‘انڈیا’ اتحاد کی جانب سے چھترپتی شاہو مہاراج 2024 لوک سبھا کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہیں این ڈی اے پارٹیوں نے سنجے مانڈلک کو میدان میں اتارا ہے۔ علاقے کی سیاست پر کولہاپور کے ووٹروں سے بات چیت۔
اس اسکیم سے ان گاؤں دیہات اور نوجوانوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑا ہے؟ کیا اب یہ فوجیوں کے گاؤں نہیں کہلائیں گے؟ زندگی کا واحد خواب چکنا چور ہونے کے بعد یہ نوجوان اب کیا کر رہے ہیں؟ کیا فوج کو اس اسکیم کی ضرورت ہے؟ کیا یہ فوج کی جدید کاری کے لیے ضروری قدم ہے؟ ان سوالوں کی چھان بین کے لیے دی وائر نے ملک کے کئی ایسے علاقوں کا دورہ کیا۔ اس سلسلے میں پہلی قسط ہریانہ سے۔
ویڈیو: مہاراشٹر کے ودربھ علاقے میں امراوتی لوک سبھا سیٹ پر کسان مودی حکومت سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے انہیں اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں ملی۔ امراوتی کے آس پاس کے اضلاع میں سویا بین، کپاس، باجرا، چنا اور گیہوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ کسانوں کی خودکشی بھی یہاں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان موضوعات پر کسانوں سے بات چیت۔
گزشتہ سال ریاست میں اسمبلی انتخابات کے بعد نکسلیوں کے خلاف آپریشن نے زور پکڑا تھا۔ ابھی انتخابی نتائج آئے بھی نہیں تھے کہ نکسلیوں کے علاقوں میں کیمپ کھولنے کی مہم تیز کر دی گئی۔
کسان یونینوں کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاست کے مختلف گاؤں میں پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ان میں سے کئی پوسٹر نوجوان کسان شبھ کرن سنگھ کو معنون ہیں، جن کی فروری میں کسانوں کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔
ڈاکوؤں کی وجہ سے بدنام علاقہ چنبل کے کئی ڈاکوؤں نے سول سوسائٹی ترون بھارت سنگھ کی مدد اور حوصلہ افزائی کے بعد تشدد، لوٹ مار اور بندوقیں چھوڑ کر پانی کے بحران کا سامنا کر رہے اس علاقے میں پانی کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ورلڈ واٹر پیس ڈے کے موقع پر ان میں سے کئی کو اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
لوک سبھا انتخابات سے پہلے یوپی کے مہاراج گنج اور کشی نگر ضلع کے 27 گاؤں کے تقریباً پچاس ہزار لوگوں نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ آمد و رفت کے لیے راستہ بننے کے انتظار میں گنڈک ندی کے پار کے ان لوگوں کا پل بنانے کا مطالبہ کافی پرانا ہے، جس کے حوالے سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ پل اور سڑک نہیں ہیں تو ووٹ کیوں دیں۔
سب کے لیے مکان، بیت الخلاء اور سڑکوں کے وعدے ان گاؤں میں بھی پورے نہیں ہوئے ہیں جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘سنسد آدرش گرام یوجنا’ کے تحت اپنے انتخابی حلقہ وارانسی میں گود لیا تھا۔
گزشتہ 13 فروری کو کسانوں کا احتجاج شروع ہونے کے بعد یہ تیسرا موقع ہے جب مرکزی حکومت نے کسانوں اور ان کے ایشوز سے متعلق اپ ڈیٹ دینے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پابندی لگائی ہے۔
ویڈیو: اتوار کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں کی موجودگی میں تیجسوی یادو نے مہاریلی میں نتیش کمار اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ریلی کے اثرات کے حوالے سے اجئے کمار کی بہار کے صحافیوں سے بات چیت۔
سال 2002 کے گجرات فسادات کے دوران اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے بعض متاثرین سے دی وائر نے بات کی تو معلوم ہوا کہ آج بھی ان کے زخم مندمل نہیں ہوئے ہیں۔ وہ فسادات کے بعد بنی مسلم بستیوں میں غیر انسانی حالات میں رہنے کو مجبور ہیں۔
ویڈیو: اتراکھنڈ کے سلکیارا سرنگ میں پھنسے 41 مزدوروں کے بچاؤ آپریشن کی قیادت کرنے والے ‘قومی ہیرو’ وکیل حسن کے گھر کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے تجاوزات کا حوالہ دیتے ہوئے منہدم کر دیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام ضروری دستاویز موجود ہیں اور اس کارروائی کی وجہ ان کا مسلمان ہونا ہو سکتا ہے۔
ویڈیو: ‘انڈیا’ اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم پر لمبے غور وخوض اور ناراضگی کی قیاس آرائیوں کے درمیان سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی ‘بھارت جوڑو نیایے یاترا’ میں شامل ہوئے۔ دونوں پارٹیوں کے لیے اس کا کیا معنی ہیں، اس بارے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش سے بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
ویڈیو: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیایے یاترا اتر پردیش کے مراد آباد پہنچی تھی۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں کیا راہل گاندھی کوئی اثر ڈالنے میں کامیاب ہوں گے، اس بارے میں بات کرتی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔
ویڈیو: اتراکھنڈ کے ہلدوانی شہر کے بن بھول پورہ علاقے میں 8 فروری کو مبینہ ‘غیر قانونی مسجد اور مدرسے’ کو مسمار کرنے کے بعد ہوئے تشدد میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ دی وائر کے یاقوت علی نے علاقے کا دورہ کیا اور وہاں رہ رہے لوگوں سے بات چیت کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
ویڈیو: 30 جنوری کو ڈی ڈی اے نے مہرولی علاقے میں واقع 600 سال پرانی اخوند جی مسجد کو منہدم کردیا۔ مسجد کی دیکھ بھال وقف بورڈ کر رہا تھا اور اس کے احاطے میں ایک مدرسہ بھی چل رہا تھا۔ اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے ڈی ڈی اے سے کارروائی کی وجہ بتانے کو کہا ہے۔
ویڈیو: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بار بار پالا بدلنے کی سیاست پرمغربی چمپارن کے لوگوں سے اجئے کمار کی بات چیت۔
ایودھیا میں رام مندر پران — پرتشٹھا کے موقع پرتقریباً 300 نوجوانوں کے ایک گروپ نے ممبئی کے قریبی علاقوں میں ان دکانوں پر حملہ کیا، جن کے نام مسلمانوں جیسے لگ رہے تھے۔ ان دکانوں پر بھی حملہ ہوا، جنہوں نےبھگوا جھنڈے نہیں لگائے تھے۔ متاثرین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے دی وائر کو بتایا کہ کافی سمجھانے کے بعد پولیس نے چار معاملوں میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس بار دیوالی کے موقع پر جب اتر پردیش حکومت ایودھیا میں دیپ اتسو منا رہی تھی، شہر کے لوگوں میں ڈینگو کا خوف نظر آ رہا تھا۔ ضلع میں 2021 میں ڈینگو کے کل 571 اور 2022 میں مجموعی طور پر 668 مریض پائے گئے تھے، جبکہ رواں سال میں اب تک یہ تعداد آٹھ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔
ویڈیو: جئے پور (دیہی) پارلیامانی حلقہ کی جھوٹوارہ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی نے سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کے قریبی سمجھے جانے والے سابق وزیر راج پال سنگھ شیخاوت کا ٹکٹ منسوخ کرتے ہوئے رکن پارلیامنٹ اور سابق مرکزی وزیر راجیہ وردھن راٹھوڑ کو میدان میں اتارا ہے۔ شیخاوت اور ان کے حامی اس اعلان کے بعد ناراض ہیں۔ جھوٹوارہ کے لوگوں سے بات چیت۔
ویڈیو: راجستھان اسمبلی انتخابات کے پیش نظر میو کمیونٹی کے لوگوں سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔
ویڈیو: راجستھان اسمبلی انتخابات کے پیش نظر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی الور ضلع کے رام گڑھ کے لوگوں سے بات چیت۔
خصوصی رپورٹ: 2020 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً ہر سنگین جرم میں عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر ملزمین کو سزا دینے کے لیے ان سے متعلق تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے کر بلڈوز کردیا گیا۔ مبینہ جرم کی سزا ملزم کے اہل خانہ کو دینے کی ان من مانی کارروائیوں کا نشانہ زیادہ تر مسلمان، دلت اور محروم طبقات کے لوگ ہی رہے۔
چھتیس گڑھ کا نارائن پور ضلع ریاست کے آدی واسی علاقوں میں مشنریوں کے ذریعے ‘جبراً تبدیلی مذہب’ کے بی جے پی کے دعووں کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ نئے سال کی شروعات پرحالات اس وقت خراب ہوگئے تھے، جب یہاں کے وشو دیپتی ہائی اسکول کے اندر واقع سیکریڈ ہارٹ چرچ میں بھیڑ نے توڑ پھوڑ کی تھی۔
ویڈیو: اگست 2021 میں متھرا ضلع کے 22 وارڈوں میں انڈے، نان ویجیٹیرین مصنوعات اور شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کاروبار سے وابستہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں گوشت فروخت کرنے کی روایت انگریزوں کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ تاہم گزشتہ دو سال کی پابندیوں کی وجہ سے کاروبار پوری طرح سے ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔