Indian Constitution

(فائل فوٹو: رائٹرس)

آرٹیکل 370: سپریم کورٹ نے مرکز کے ہاتھ میں صوبائی حکومتوں کو معزول کرنے کا ایک اور ہتھیار دے دیا ہے؟

ہندوستان میں مرکزی حکومتوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر 115 بار آئین کی دفعہ 356 کا استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو معزول کیا ہے۔ اب مرکزی حکومت کو ایک اور ہتھیار مل گیا ہے۔ اپوزیشن کے زیر اقتدار کسی بھی صوبائی حکومت کو نہ صرف اب معزول کیا جا سکے گا، بلکہ اس ریاست کو پارلیامنٹ کی عددی قوت کے بل پر براہ راست مرکزی علاقے میں تبدیل کیا جاسکے گا اور صوبائی اسمبلی کے مشورہ کے بغیر ہی دولخت بھی کیا جا سکے گا۔

کانگریس لیڈر پون کھیڑا، پی چدمبرم اور ابھیشیک منو سنگھوی 11 دسمبر 2023 کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس)

جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے حوالے سے سپریم کورٹ کی خاموشی پر اپوزیشن نے تشویش کا اظہار کیا

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے مایوس ہے کہ سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر ریاست کو تقسیم کرنے اور اس کی حیثیت کو کم کرکے دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کرنے کے سوال پر فیصلہ نہیں دیا۔ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کانگریس نے کہا کہ وہ ‘احترام کے ساتھ اس فیصلے سےمتفق نہیں’ ہے۔

 (تصویر بہ شکریہ: فائل/انج گپتا/فلکر CC BY-NC 2.0 DEED)

کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا، کہا- یہ عارضی شق تھی

سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کا آئینی فیصلہ پوری طرح سے جائز ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ریاست میں 30 ستمبر 2024 سے پہلے اسمبلی انتخابات کرانے کی ہدایت بھی دی۔

سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ۔ (اسکرین گریب بہ شکریہ: یوٹیوب)

آرٹیکل 370 پر شنوائی کے دوران سی جے آئی نے کہا – بریگزٹ جیسا ریفرنڈم ہندوستان میں ممکن نہیں

جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری سماعت میں عرضی گزاروں کے وکیل کپل سبل نے مرکز پر صوبے کے لوگوں کی خواہش کو سمجھنے کی کوشش کیے بغیر ہی ‘یکطرفہ’ فیصلہ لینے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب آپ جموں و کشمیر سے اس طرح کے خصوصی تعلقات کو توڑنا چاہتے ہیں تو لوگوں کی رائے لینی ہوگی۔

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندوستان کے فکرمند شہریوں کی کشمیر پر ایک نئی رپورٹ

فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں وکشمیر سے وابستہ اس غیر رسمی گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتی دعووں کے برعکس کشمیر کے زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا امن و امان و سلامتی کا دعویٰ صحیح ہے، تو یہ خطہ پچھلے پانچ سالوں سے منتخب اسمبلی کے بغیر کیوں ہے؟

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

غیر مسلم بھی یکساں سول کوڈ کے مخالف …

عوام کی غالب اکثریت یکساں سول کوڈ کو مسلمانوں کے نظریے سے دیکھتی ہے۔ ان کو نہیں معلوم کہ دیگر فرقے بھی اس کے مخالف ہیں۔ یہ خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں اس کی آڑ میں ہندو کوڈ یا ہندو رسوم و رواج کو دیگر اقوام پر تو نہیں تھوپا جائے گا۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

آرٹیکل 370: کیا سپریم کورٹ تاریخ رقم کرنے کو ہے؟

کشمیر کے معاملے پر چاہے سپریم کورٹ ہو یا قومی انسانی حقوق کمیشن، ہندوستان کے کسی بھی مؤقر ادارے کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے، مگر چونکہ اس مقدمہ کے ہندوستان کے عمومی وفاقی ڈھانچہ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچہ اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ امید ہے کہ وہ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ داد رسی کا انتظام کر پائےگی۔

(امرتیہ سین۔ فوٹو بہ شکریہ: amazon.in)

یونیفارم سول کوڈ متعارف کرانے کا قدم ایک دھوکہ ہے، جو ہندو راشٹر سے جڑا ہوا ہے: امرتیہ سین

یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں نوبل انعام یافتہ ماہراقتصادیات امرتیہ سین نے سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اس طرح کی قواعدسےکس کو فائدہ ہوگا۔ یہ عمل یقینی طور پر ‘ہندو راشٹر’ کے خیال سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ،’ہندو راشٹر’ ہی واحد راستہ نہیں ہو سکتا، جس کے ذریعے ملک ترقی کر سکتا ہے۔

Arfa-ji-UCCthumb

کیا 2024 کی جیت کے لیے یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کا آخری ہتھیار ہے؟

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں یکساں سول کوڈ کی پرزور وکالت کی تھی۔ کیا یہ اگلے عام انتخابات سے پہلے بی جے پی کی طرف سے کوئی انتخابی چال ہے؟ اس بارے میں بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

علامتی تصویر(فوٹو : پی ٹی آئی)

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تقریباً چار سال بعد اس کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر شنوائی ہوگی

اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی بیشتر دفعات کو منسوخ کرنے اور صوبے کو دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کےفیصلے کے خلاف بیس سے زیادہ عرضیاں عدالت میں زیر التوا ہیں۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی پانچ ججوں کی بنچ اگلے ہفتے ان کی سماعت کرے گی۔

شہلا رشید، فوٹو: انسٹا گرام

دہلی: فوج پر متنازعہ ٹوئٹ کے لیے ایل جی نے شہلا رشید کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی

اگست 2019 میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کی سابق رہنما شہلا رشید نے سلسلہ وار کئی ٹوئٹ کرکےہندوستانی فوج پر جموں و کشمیر میں لوگوں کو اٹھانے، چھاپے ماری کرنے اور لوگوں پرتشدد کرنے کے الزام لگائے تھے۔ اب اس کے لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے ان کے خلاف سی آر پی سی کی دفعہ 196 کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری دی ہے۔

ثنا ارشاد مٹو۔ پس منظر میں پولٹزر پرائز کی تقریب کی ایک تصویر اور مٹو کی طرف سے ٹوئٹ کردہ ان کے پاسپورٹ کی تصویر۔ (تصاویر: Twitter/@mattoosanna، @PulitzerPrizes اور @hrw)

پولٹزر نے کشمیری صحافی مٹو کو روکے جانے کی مذمت کی، کہا — یہ امتیازی سلوک کی انتہا ہے

کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو کو 18 اکتوبر کو دہلی کے ہوائی اڈے پر ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود روک دیا گیا تھا۔ وہ پولٹزر پرائز کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہی تھیں۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کشمیری صحافی مٹو کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکے جانے  کے واقعے کی سی پی جے نے مذمت کی

کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو نے بتایا تھا کہ انہیں قانونی طور پرصحیح ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود دہلی ہوائی اڈے پر نیویارک جانے سے روک دیا گیا۔مٹو خبررساں ایجنسی ‘رائٹرس’کی اس ٹیم کا حصہ تھیں جسے ہندوستان میں کووڈ–19کی کوریج کے لیے ‘فیچر فوٹوگرافی’ کے زمرے میں پولٹزر پرائز سے نوازا گیا تھا۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کشمیری صحافی نے کہا، پولٹزر پرائز لینے کے لیے امریکہ جانے سے روکا گیا

پولٹزر ایوارڈیافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو نے منگل کے روز کہا کہ انہیں ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود دہلی ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔ وہ پولٹزر پرائز کی تقریب میں شرکت کے لیے نیویارک جا رہی تھیں۔ اس سے قبل جولائی میں انہیں پیرس جانے سے روکا گیا تھا۔

ثنا ارشاد مٹو۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

پولٹزر ایوارڈ یافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا

سال 2022 کے لیے ‘فیچر فوٹوگرافی کے زمرے’ میں پولٹزر ایوارڈجیت چکیں کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد مٹو ہندوستان سے فرانس کے لیے اڑان بھرنے والی تھیں۔ ان کے پاس یہاں کا ویزا بھی تھا، اس کے باوجود امیگریشن حکام نے کوئی وجہ بتائے بغیران سے کہا کہ وہ بین الاقوامی سفر نہیں کر سکتی ہیں۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

عدم برداشت کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں آئی اے ایس کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شاہ فیصل سروس میں واپس لوٹے

بتایا جا رہا ہے کہ شاہ فیصل نے اپنے تمام سابقہ ​​ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، جو مرکزی حکومت کی تنقید میں لکھے گئے تھے۔ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پر موجودہ بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے زبردست حامی نظر آ رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اکثر اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی تقاریر، بیانات اور اعلانات کو شیئر کر رہے ہیں۔

Constitution-of-India

آئین سازی کے دوران سوشلسٹ پارٹی کا لہجہ الگ کیوں تھا؟

دسمبر 1946 میں جب آزاد ہندوستان کے لیےآئین سازی کی مشق شروع ہوئی اور دستور ساز اسمبلی کی تشکیل ہوئی تو کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئےاس مجوزہ دستور ساز اسمبلی کا بائیکاٹ کیاکہ یہ ‘ایڈلٹ فرنچائز’ یعنی بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر منتخب اسمبلی نہیں ہے۔

کشمیری صحافی عرمان امین ملک ،فوٹو: فیس بک

کشمیری صحافی نے کہا-ڈی لٹ ٹوئٹ کو لے کر پولیس نے پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی

کشمیری صحافی عرفان امین ملک نے جموں وکشمیر کی فلم پالیسی کے بارے میں سات اگست کی شام کو ایک ٹوئٹ پوسٹ کیا تھا۔ حالانکہ ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے دو منٹ کے اندر ہی انہوں نے اسے ڈی لٹ کر دیا تھا، لیکن جموں وکشمیر پولیس نے آٹھ اگست کو ملک کو جنوبی کشمیر کے ترال پولیس اسٹیشن بلایا، جہاں ان سے اس بارے میں پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی۔

فوٹو: اے این  آئی

کشمیری رہنماؤں سے مودی کی ملاقات؛ یہ منظر اور اس کا پس منظر کیا بولتا ہے

پچھلے دو سالوں سے دنیا بھر میں ہندوستانی سفیر وہ نہیں کر پائے جو 24جون دن کے تین بجے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ پر اس گروپ فوٹو نے کیا، جس کی پہلی قطار میں وزیراعظم، ان کے دست راست وزیر داخلہ امت شاہ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ ان کے فرزند عمر عبداللہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے ہمراہ نظر آئے۔

25 جون 2021 کو ہوئی کل جماعتی اجلاس  میں وزیراعظم نریندر مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور جموں وکشمیر کے ایل جی  منوج سنہا کے ساتھ جموں وکشمیر کےرہنما۔ (فوٹوبہ شکریہ :پی آئی بی)

جموں و کشمیر: کسی کی زبان کاٹ کر اس سے کیسے بات کی جاتی ہے، کل جماعتی اجلاس اس کی مثال ہے

کل جماعتی اجلاس کوسمجھنے کے لیے جموں وکشمیر کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں،معمولی سیاسی اور اخلاقی فہم کافی ہے۔حکومت ہند نے کیوں انہی رہنماؤں کو بلایا، جنہیں وہ خودغیرضروری مانتی رہی ہے؟ وجہ صاف ہے۔ وہ ایسی بیٹھکوں کے ذریعے5 اگست 2019 کو اٹھائے غیرآئینی قدم کو عوامی طور پرایک طرح کی قانونی حیثیت دلانا چاہتی ہے۔

محبوبہ مفتی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں انتخاب سے پہلے لوگوں میں بھروسہ بحال کرنے کی ضرورت ہے: محبوبہ مفتی

گزشتہ جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہوئے کل جماعتی اجلاس میں شامل رہیں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں زمینی حالات ویسے نہیں ہیں جیسےدنیا کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ کسی کے خلاف شکایت ہےتو اسے احتیاطی حراست میں ڈال دیا جاتا ہے، ٹوئٹر پرحقیقی جذبات لکھنے پر جیل ہو جاتی ہے۔ کیا اسے ہی جمہوریت کہا جاتا ہے۔

2406 AKI Kashmir.00_43_47_08.Still004

کشمیری ’گپکر گینگ‘ سے ملے مودی، کیا ہے سرکاری یو ٹرن کے پیچھے کا کھیل

ویڈیو: مرکز کے ذریعے جموں وکشمیر سےآرٹیکل 370 کے اکثر اہتمام ہٹائے جانے اور صوبے کو دو یونین ٹریٹری میں بانٹے جانے کے بعد پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں24 جون کو کل جماعتی اجلاس ہوئی۔ اس بارے میں سری نگر سے سینئر صحافی گوہر گیلانی، جموں سے سینئر صحافی انورادھا بھسین اور دی وائر کے بانی مدیرسدھارتھ وردراجن سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

محبوبہ مفتی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اگر بی جے پی ایک خاتون سے سیاسی طور پر نہیں لڑ سکتی تو انہیں چوڑیاں پہن لینی چاہیے: محبوبہ مفتی

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب تک جموں وکشمیر کو آرٹیکل370 کے تحت ملے خصوصی درجے کو بحال نہیں کیا جاتا ہے، تب تک وہ انتخاب نہیں لڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار انہیں حراست میں لینا چاہتی ہے تو سیدھے ان کے پاس آئے، اورگھرکے ممبروں ، دوستوں اور پارٹی کے اتحادیوں کو پریشان کرنا بند کر دے۔

محبوبہ مفتی(فوٹو: رائٹرس)

جموں کشمیر: سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی 14مہینے کی نظربندی کے بعد رہا

سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کی صدرمحبوبہ مفتی پچھلے سال پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کےاکثر اہتماموں کو ختم کرکے جموں وکشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ہٹائے جانے کے بعد سے ہی نظربند تھیں۔ رہا ہونے کے بعد مفتی نے کہا کہ جو ہم سے چھینا گیا، اسے واپس لینا ہوگا۔

فاروق عبداللہ اور کرن تھاپر (فوٹو: دیوی دت)

کشمیری آج خود کو ہندوستانی نہیں مانتے، وہ چین کے زیر اقتدار رہنے کو تیار ہیں: فاروق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کےصدراور جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کودوبارہ نافذ کروانے اور جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دلوانے کے لیےپرعزم ہیں اور اس کے لیے آخری سانس تک پرامن ڈھنگ سے لڑیں گے۔

نیشنل کانفرنس کے صدرفاروق عبداللہ۔ فوٹو: پی ٹی آئی

آرٹیکل 370 کی لڑائی میں پاکستان کی حمایت پر بو لے فاروق عبداللہ: کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہیں

نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور تین دیگر پارٹیوں نے جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے مل کر لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک منشور جاری کیا تھا۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اس کوحمایت دینے کی بات پر سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے یہ تبصرہ کیا ہے۔

علامتی تصویر / ٖفوٹو : رائٹرز

’کشمیریوں کو جان لینا چاہیے کہ اب وہ ہمارے غلام ہیں‘

رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران 12سے 15ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔مصنفین کے مطابق ایک شخص کو گرفتار کرکے آگرہ جیل میں بس اس وجہ سے پہنچایا گیا کہ کسی فوٹو میں اس کو کسی کی نماز جنازہ ادا کرتے ہو ئے دیکھا گیا تھا۔

فوٹو: رائٹرس

کیا ہندو اکثریتی ہندوستان میں کشمیر کی مسلم شناخت قائم رہے گی؟

گر چہ لگتا تھا کہ آبادی کے تناسب کو بگاڑنے میں کئی سال لگ جائیں گے اور امید تھی کی اس دوران تاریخ کا پہیہ پلٹ کر شاید کشمیری عوام کی مدد کو آئےگا، مگر باہری افراد کی اتنی بڑی تعداد کو اگر یک مشت شہریت دی جاتی ہے تو آباد ی کا تناسب راتوں رات بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے ایک سال مکمل ہو نے سے پہلے پوری گھاٹی میں کرفیو

جموں و کشمیرانتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ پرتشددمظاہروں کےخدشات کے مدنظرسرینگر اور گھاٹی کے دوسرے حصوں میں کرفیو لگایا گیا ہے، کیونکہ علیحدگی پسنداور پاکستان اسپانسرڈتنظیمیں پانچ اگست کو یوم سیاہ منانے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔

(تصویر بہ شکریہ: Wikimedia Commons)

آئین کی تمہید سے ’سوشلزم‘ اور ’سیکولر‘ لفظ ہٹانے کے لیے عرضی دائر

سال 1976 میں آئین کی تمہید میں‘سوشلزم’اور‘سیکولر’لفظ42ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڑے گئے تھے۔ اب دو وکیلوں نے انہیں ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم ہندوستان کے تاریخی اورثقافتی موادکے منافی تھا۔

نعیم اختر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے دو رہنماؤں پر لگا  پی ایس اے ہٹا

پی ڈی پی رہنما نعیم اختر اور نیشنل کانفرنس رہنما ہلال لون کو پچھلے سال پانچ اگست کو جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ہٹانے کے بعد انتظامیہ نے حراست میں لیا تھا۔ اب پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی مین اسٹریم کی آخری رہنما ہیں، جنہیں پی ایس اے کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

سابق مرکزی وزیر اور جموں وکشمیر کانگریس کے سینئررہنماسیف الدین سوز۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کی نظربندی کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر

جموں وکشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ہٹنے کے بعد سے سابق مرکزی وزیر اور جموں وکشمیر کانگریس کے سینئررہنماسیف الدین سوز نظربند ہیں۔ ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں داخل حبس بے جا یعنی ہیبیس کارپس کی درخواست میں الزام لگایا کہ ان کے شوہر کوپی ایس اے کے تحت گھر میں ہی نظربند کرنے کی وجہ آج تک نہیں بتائی گئی ہے۔

شاہ فیصل، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

جموں و کشمیر: سابق آئی اے ایس شاہ فیصل کی نظربندی پی ایس اے کے تحت تین مہینے بڑھائی گئی

آئی اے ایس کی نوکری سے استعفیٰ دینے کے بعد جموں اینڈ کشمیر پیپلس موومنٹ پارٹی بنانے والے شاہ فیصل جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے نظربندی میں ہیں اور ان پر اس سال فروری میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی(فوٹو: پی ٹی آئی)

پی ایس اے کے تحت محبوبہ مفتی کی حراست تین مہینے بڑھائی گئی

پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ملزم بنائے گئے نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر اور پی ڈی پی رہنما سرتاج مدنی کی نظربندی بھی تین مہینے بڑھا دی گئی ہے۔ جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح انہوں نے بھی نظربندی میں نو مہینے بتائے ہیں۔

سرینگر میں تعینات سکیورٹی اہلکار (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: انتظامیہ  نے 28 لوگوں پر سے پی ایس اے ہٹایا، محبوبہ مفتی ابھی بھی حراست میں

حکام نے کہا کہ جن لوگوں پر سے پبلک سیفٹی ایکٹ ہٹایا گیا ہے، ان میں کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرنگ فیڈریشن اور کشمیر اکانومک الائنس کے چیف محمد یاسین خان کا نام بھی شامل ہے۔