نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔
ارندھتی رائے نے غزہ پر برلنالے جیوری کے بیان کو ’حیران کن‘ اور ’مایوس کن‘ بتاتے ہوئے 2026 کے فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی فلم ’ان وہچ اینی گوز اٹ دوز ونس‘ کو کلاسکس سیکشن میں منتخب کیا گیا تھا۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں منعقد ’سمتا اتسو‘ کے دوران مؤرخ پروفیسر ایس عرفان حبیب پر پانی اور کوڑے دان پھینکے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آئیسا نے الزام لگایا ہے کہ حملہ اے بی وی پی کے لوگوں نے کیا۔ اے بی وی پی نے ان الزامات کو جھوٹا بتایا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی رہنما اسمبلی انتخابات سے قبل ’دراندازوں‘ کو نکالنے کے دعوے کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں آسام میں امت شاہ نے’64 لاکھ دراندازوں‘ کے قبضے کا دعویٰ کیا، حالاں کہ اس بارے میں وزارت داخلہ کا جواب بڑے سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت نے کہا ہے کہ اس کے پاس دراندازوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔
ہمنتا بسوا شرما بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں، اسے وہ یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیتے ہیں کہ یہ مقامی اسامیا مسلمانوں کے خلاف نہیں صرف دراندازوں کے خلاف ہے۔ اگر مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ٹھیٹ اسامیا نہیں ہیں، تو بھی ان کے خلاف تشدد کی ترغیب اور تشدد کی – کیا قانون اجازت دیتا ہے؟
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اندور کے انٹرنیشنل اسکول آف بامبے میں مذہبی بنیاد پر ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان امتیازی سلوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں دونوں برادری کے طلبہ کے لیے الگ الگ سالانہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس کے حوالے سے والدین میں ناراضگی دیکھی گئی۔ انہوں نے اسکول پر پہلے بھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے الزامات لگائے ہیں۔
ہمنتا بسوا شرما بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد کئی شدت پسند آر ایس ایس کارکنوں سے بھی زیادہ جارح اور مسلم مخالف ہو چلے ہیں۔ انہوں نے اپنے آئینی عہدے کا استعمال ہیٹ اسپیچ کے لیے کیا ہے۔
ویسے تو اس کتاب میں کئی ایسے واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھانے والے ویڈیو پر الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے شدید اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی پیغامات کے پس پردہ تشدد اور نفرت کو معمول بنانے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت قانونی اور عدالتی کارروائی ضروری ہے۔
گاندھی اسمارک ندھی کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب بی جے پی کی کرناٹک اکائی نے ایک اشتہار جاری کرتے ہوئے گاندھی کو کانگریس لیڈروں کو ڈرانے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے دکھایا ہے۔ ادارے نے کہا کہ گاندھی کو پارٹی سیاست کے حساب سے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس سے غلط پیغام جانے کا خطرہ ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی درآمد مکمل طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اٹھتے سوالوں کے جواب میں وزیر خارجہ اور وزیر تجارت کے بیان اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ حکومت اپنی پوزیشن واضح کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دونوں وزارتوں کے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے درمیان، کسی واضح تردید کا سامنے نہ آنا اب خاموش رضامندی جیسا نظر آنے لگا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔
آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔
بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی سنسر کی گئی کتاب میں ایک فون کال کے ذکر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کتاب کے مطابق، اس کال میں ہندوستان اور چین کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران فوج کو سیاسی ہدایت محض یہ تھی کہ ‘جو صحیح لگے، وہ کرو’۔ حالاں کہ اس کے علاوہ بھی کتاب ایسے کئی سوال اٹھاتی ہے، جن کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔
گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے مسلح سینکڑوں لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں پر حملہ کیا، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن پولیس فورس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘
حال ہی میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کو دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے خلاف دیپک کمار نامی شخص نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے لوگ بڑی تعداد میں دیپک کے جم پراحتجاج کرنے پہنچے تھے۔ اب پولیس نے دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔
مہاراشٹر کے بارامتی میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما اجیت پوارطیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا، جب این سی پی لیڈر پوار اور دیگر کو لے جا رہا طیارہ پونے کے بارامتی علاقے میں لینڈ کر رہا تھا۔ ان کے ساتھ پانچ دیگر افراد بھی سوار تھے، لیکن وہ زندہ نہیں بچ سکے۔
اتراکھنڈ کے مسوری میں 18ویں صدی کے پنجابی صوفی بزرگ، شاعر اور سماجی مصلح بابا بلھے شاہ کے تقریباً 100 سال پرانے مزار میں ہفتے کی رات دیر گئے مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، بڑھتی ہوئی غربت، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور نوجوان نسل کے تاریک مستقبل کے حوالے سے اٹھنے والوں سوالوں کے جواب دینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
یہ خبر کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رفح دوبارہ کھل سکتا ہے، غزہ میں ایک نازک سی امید کی لہر پھیل گئی ہے۔ امن منصوبے کے حوالے سے فلسطینی علاقوں میں گہرے اور بجا شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک محتاط امید بھی موجود ہے۔
اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔
وفاتیہ: جس نسل نے ٹرانزسٹر ریڈیو کے سہارے سیاسی فہم و فراست پیدا کرنے کی سعی کی، اس کے لیے مارک ٹلی صرف نامہ نگار نہیں تھے۔ الجھن کے ساتھی تھے، ایک ایسے ملک کے لیے سمت نما تھے، جو اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق، جون 2025 سے نومبر 2025 کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی گئی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔
ایس آئی آر پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ایس آئی آر آرڈر میں واضح طور پر یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ اس عمل کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کرنا بھی ہے۔ جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ کمیشن نے ایس آئی آر کے لیے وجہ کے طور پر صرف ‘بار بار نقل مکانی’ کو لسٹ کیا ہے، سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت کو نہیں۔
بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایلگار پریشد کیس میں گرفتار کیے گئے کلچرل ایکٹوسٹ ساگر گورکھے اور رمیش گائچور کو ضمانت دے دی۔ دونوں 2020 سے ممبئی کی تلوجا جیل میں ہیں۔ اس رہائی کے حکم کے بعد اب گرفتار کیے گئے 16 لوگوں میں سے صرف انسانی حقوق کے کارکن سریندر گاڈلنگ ہی جیل میں رہ گئے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے وفاقی عدالت کو بتایا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اڈانی گروپ کو 14 ماہ سے سمن کی تعمیل نہیں کرائی جا سکی ہے۔ ایجنسی نے اب ای میل سے نوٹس بھیجنے کی اجازت طلب کی ہے۔ معاملہ مبینہ رشوت خوری سے متعلق ہے۔
انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔