جموں و کشمیر انتظامیہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ‘علیحدگی پسندی کو فروغ دینے’ اور ‘ہندوستان کے خلاف تشدد بھڑکانے’ کے الزام میں 25 کتابوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے کچھ کتابیں سرکردہ ہندوستانی مصنفین مثلاً اے جی نورانی، ارندھتی رائے اور انورادھا بھسین سمیت معروف مؤرخین نے لکھی ہیں۔
سی اے اے کا حوالہ دیتے ہوئے آسام حکومت نے ضلع حکام اور فارنرز ٹربیونلز کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے ریاست میں داخل ہونے والے ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور پارسی کے کے خلاف مقدمات واپس لیں ۔
میں ایک خوشحال ملک کا شہری ہوں اور معترف ہوں کہ یہ خوشحالی آپ کی بدولت ہے۔ آپ کے اقتدار سے پہلے یہ ملک دنیا کا سب سے غریب ملک تھا ۔لوگ زندہ درگور تھے۔ آپ نے ہمیں غربت ، جہالت اور ذلت کی دلدل سے آزاد کیا۔ میری طرح آپ کے لاکھوں پرستار ہیں۔ ایک اداکارہ تو آپ کی دیوانی ہے۔ اس نے بجا فرمایا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں آپ کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد ہوئے ہیں ۔ آپ نے ہمیں آزادی، عزتِ نفس اور تاریخی افتخار سے آشنا کیا ہے۔
امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان پر عائد کردہ کل ٹیرف پچاس فیصدی ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے تازہ فیصلے کے مطابق 25 فیصد اضافی ٹیرف 27 اگست سے لاگو ہوگا۔
بی جے پی کی سابق ترجمان اور وکیل آرتی ساٹھے کی بامبے ہائی کورٹ میں جج کے طور پر تقرری کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے عدلیہ کی غیر جانبداری پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی تقرری کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے بہار میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے بغیر کسی شفافیت کے 65 لاکھ سے زیادہ نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اے ڈی آر کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ بتانے میں ناکام رہا کہ حذف کیے گئے ووٹرز کون تھے – کیا وہ مر چکے ہیں یا نقل مکانی کر چکے ہیں۔
مالیگاؤں بم دھماکے میں ہندوتوا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ملزمان کے بری ہونے کے باوجود مہاراشٹر حکومت بامبے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی خواہشمند نہیں ہے ۔ جبکہ حال ہی میں 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکے کے مسلم ملزمان کے بری کیے جانے پر حکومت نے فوراً سے پیشترسپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔
بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں غریب، مسلم اکثریتی اور روزی روٹی کے لیے دوسری ریاستوں میں جانے والے اضلاع سے بڑی تعداد میں ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، ہجرت اور ناموں کے ہٹائے جانے کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔
ستیہ پال ملک آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے دوران جموں و کشمیر کے گورنر تھے۔ آج اس تاریخی فیصلے کی چھٹی برسی بھی ہے۔ پلوامہ حملے اور کسانوں کی تحریک پر اکثرملک کے بیان سرخیوں میں رہے۔
ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔
’وقت کے ساتھ میں نے اپنی شناخت کو چھپانا شروع کر دیا ہے۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں، تو میں کہتی ہوں – یہیں دلی سے۔‘
پانچ اگست 2019 کے بعد کا کشمیرہندوستان کے لیے آئینہ ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا کشمیرائزیشن تیز رفتاری سے ہوا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی پامالی، گورنروں کی ہنگامہ آرائی ، وفاقی حکومت کی من مانی۔
شیبو سورین کی کہانی کسی افسانوی ہیرو کا قصہ نہیں۔یہ اس ہندوستان کے درد و کرب کا نغمہ ہے، جسے مرکزی دھارے کی سیاست اور میڈیا نے اکثر نظر انداز کیا۔ ایک ایسا ہندوستان جو جنگل میں سانس لیتا ہے، جو زمین سے وابستہ ہے اور بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ’وکاس‘ کس کا ہوتا ہے۔
کرناٹک میں شری رام سینا کے ایک رکن نے مبینہ طور پر بیلگاوی ضلع میں سرکاری اسکول کی پانی ٹنکی میں زہر ملانے کی سازش رچی، تاکہ مسلم پرنسپل کا کاتبادلہ کروایا جاسکے۔
راجستھان کی سروہی عدالت نے سادھو اودھیشانند مہاراج کے قتل کے معاملے میں آر ایس ایس کے سابق پرچارک اتم گری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ قتل سنگھ کے دفتر میں ہوا تھا۔ یہ شاید پہلا معاملہ ہے جب سنگھ کے کسی عہدیدار کو سنگھ پریوار کے کسی دوسرے رکن کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔
مالیگاؤں دھماکہ میں مسلمان ہی ہلاک اور زخمی ہوئے، اور اس کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ہی عائد کرنے کی گھناؤنی کوشش کی گئی۔ تاہم، یہ ملک کا پہلا مقدمہ نہیں ہے،جس میں این آئی اے کو اپنی بے ایمانی کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اور کیایہ اتفاق ہے کہ این آئی اے کوایسے بیشتر مقدمات میں ہار کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ملزمین ہندوتھے اور بم دھماکوں میں شہید اور زخمی ہونے والے مسلمان ؟
مالیگاؤں بلاسٹ کیس میں عدالتی فیصلے سے چند گھنٹے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کانگریس پر ‘بھگوا آتنکواد’ کی تھیوری پیش کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ کوئی بھی ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔
عدالت اور سڑک کی بھیڑکے درمیان کافرق مٹ جانا تشویشناک ہے۔ یہ ایک نئی قوم پرستی کا بے ساختہ جنم ہے۔ نہرو پلیس کی بھیڑ منظم نہیں تھی۔ وہ لوگ شاید بجرنگ دل کے رکن نہیں تھے۔ لیکن جس طرح غزہ سے ہمدردی کی بات سن کر عدالت مشتعل ہوئی اسی طرح یہ بھیڑ فلسطینی پرچم دیکھ کر بھڑک گئی۔
ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جارہی اس مہم کے دوران اگر ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جاتے ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے اس کیس کی حتمی سماعت کی تاریخ 12 اور 13 اگست طے کی ہے۔
آزاد کشمیر کے پہلے ناظم اطلاعات کی کہانی، جن کے بارے میں وقتا فوقتا خبریں چھپتی ہیں کہ انہوں نے ’آزاد کشمیر ‘ کا پرچم ڈیزائن کیا۔
دی وائر کے دس سال مکمل ہونے پر تقریبات کے ایک سلسلے کے طور پر 1 اور 2 اگست کو منعقد ہونے والے پروگرام میں اردو کی تاریخ اور ترجمے سے لے کر غزہ میں اسرائیلی تشدد اور میم کلچر تک کئی موضوعات پر مذاکرہ اور مباحثہ ہوگا، وہیں قصہ گوئی کے ساتھ مشاعرہ کا اہتمام کیا جائے گا۔
مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ پانے والے طلبہ کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سرکاری محکمے نے اب ان طلبہ کے پرانے انکم سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنے کو کہا ہے۔ یہ دستاویز پہلے کبھی نہیں مانگے گئے تھے، لیکن اب مانگے جا رہے ہیں۔
اشعر نجمی کا ناول ‘کانگریس ہاؤس’ ایک بڑے سیاسی کھیل کو موضوع بناتے ہوئے جمہوریت کی ہوشیاری، ہوسناکی اور اس کی آمریت کے سارے بھید کھول دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول ہماری مٹی کا ہمزاد ہے، ہمارا ہمزاد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے دکھوں کا اور ہمارے نفسی وجود کا ہمزاد ہے۔
سری نگر کے ایک اسپتال کے باہر مظاہرہ کر رہے ڈاکٹروں نے کشمیر کی ایک خاتون صحافی اور چار دیگر صحافیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ صحافی صوفی ہدایت نے پی سی آئی، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا سے جموں و کشمیر حکومت کے سامنے اس معاملے کو اٹھانے اور ملزم ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔
ای ڈی نے انل امبانی کے ریلائنس گروپ کی کمپنیوں کے منی لانڈرنگ معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ یس بینک کی طرف سے دیے گئے تقریباً 3000 کروڑ روپے کے قرضوں میں بھاری گڑبڑی، رشوت اور دھوکہ دہی کے الزامات ہیں۔ ای ڈی نے 50 کمپنیوں اور 35 سے زیادہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے کی ہے۔
بنگلہ دیش سے آئے مبینہ شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے درمیان سینکڑوں بنگالی اور آسامی مزدوروں کو گروگرام پولیس نے حراست میں لے کر ‘ہولڈنگ سینٹر’ میں رکھا ہے۔ ان میں زیادہ تر مرد ہیں۔ صرف 19 جولائی کو 74 مزدوروں کو حراست میں لیا گیا۔
جولائی 2006 کےممبئی سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے معاملے میں ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کے ذریعے قصوروار ٹھہرائے گئے تمام 12 لوگوں کو بری کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے جزوی طور پر فیصلے پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مکوکا کے دیگر معاملوں میں مثال نہیں مانا جائے گا۔
بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے ٹرین دھماکہ کیس میں 12 ملزمان کو 19 سال بعد بری کر دیا۔ فیصلے نے دکھایا کہ کس طرح پولیس نے تشدد کے سہارے اقبال جرم کروائے، جانچ میں خامیاں رہیں اور ٹرائل کورٹ نے اسے نظر انداز کیا۔ ہائی کورٹ نے سخت تبصرے کیے، لیکن تشدد کے لیے قصوروار اہلکاروں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔
ممبئی ٹرین دھماکہ کیس میں بری ہوئے ساجد انصاری کا کہنا ہےکہ پولیس نے انہیں پھنسانے کی کوشش کی،کیونکہ وہ الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ ‘پولیس نے میرے گھر سے کچھ الیکٹریکل سامان برآمد کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ میں بم اور دھماکہ خیز مواد بنانے کا ماہر ہوں۔’
بہار میں جو ہو رہا ہے وہ آج تک ہندوستانی جمہوریت میں کبھی نہیں ہوا۔ آپ نے بھلے ہی پچھلے بیس سالوں میں درجنوں انتخابات میں ووٹ دیا ہو، اب آپ کو نئے سرے سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں۔ آپ کی شہریت کا فیصلہ ایک گمنام سرکاری ملازم کرے گا، ایک ایسےعمل کے ذریعے جس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔
سنگھ کو لگتا ہے کہ مودی کے بعد ایک تو اقتدار کی کشمکش امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان ہوگی، دوسری طرف کسی سنجیدہ طاقتورلیڈرشپ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کانگریس سے بھی بری حالت ہو جائےگی،جس کا سد باب کرنا ضروری ہے۔
نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے ‘صحت کی وجوہات’ کا حوالہ دیتے ہوئے 21 جولائی کو فوری اثر سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 74 سالہ دھنکھڑ کی میعاد 2027 تک تھی۔ دریں اثنا، کانگریس نے کہا ہے کہ اس قدم کے پیچھے گہری وجوہات ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس شہریت کا ثبوت مانگنے کا اختیارہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے متنازعہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر)کے عمل میں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کو قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کرنے کی عدالت کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
ملک کی سرکردہ دلت تنظیموں کی ایک آرگنائزیشن نیشنل کنفیڈریشن آف دلت اینڈ آدی واسی آرگنائزیشن کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 71فیصد سے زیادہ دلت رائے دہندگان کواسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی وجہ سے اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے 21 جولائی کو ان تمام 12 لوگوں کو بری کر دیا، جنہیں 11 جولائی 2006 کے سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے لیے پہلے مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور سزائے موت (ان میں سے پانچ کو) اور عمر قید (سات کو) کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف معاملہ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ملزمین نے جرم کیا ہے۔
بہار کی کل آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے۔ ان میں سے کوئی 8 کروڑ بالغ ہیں، جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے تقریباً 3 کروڑ لوگوں کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، باقی 5 کروڑ لوگوں کو اپنی شہریت کا ثبوت اکٹھا کرنا ہوگا۔ ان میں سے نصف یعنی ڈھائی کروڑ لوگوں کے پاس وہ سرٹیفکیٹ نہیں ہوں گے، جو الیکشن کمیشن مانگ رہا ہے۔
ادب میرے لیے محض لفظوں کا ہنر نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری ہے — وقت سے آنکھیں ملانے اور خاموشی کو آواز دینے کی۔ ایسے قلم کا کیا کرنا جو دیکھے سب کچھ ، مگر لکھے کچھ نہیں۔ میرے نزدیک، ایسا قلم مردہ ہے — اور میں اسے اٹھانے کا روادار نہیں۔میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی پہلی قسط میں پڑھیے معروف فکشن نویس شبیر احمد کو۔
الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران اب تک 36 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنےپتے پر نہیں پائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے 14 جولائی کو کمیشن نے کہا تھا کہ بہار میں ووٹر لسٹ سے 35,69,435 ناموں کو ہٹایا جا سکتا ہے۔