مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے کھرولا گاؤں میں 13 سے 15 سال کی عمر کے تین مسلمان لڑکوں کو کچھ لوگوں نے ایک کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا۔ پولیس کی مداخلت کے باوجود حکام نے پہلے متاثرین کے خلاف ہی معاملہ درج کر لیا۔ لوگوں کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے کچھ گھنٹوں کے بعد مراٹھا ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
ہندوستان کی جیلوں میں جان گنوانے والے قیدیوں کی موت کو اکثر ’فطری موت‘ کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے یہ موتیں ہوئی ہوں، جو فطری نہیں ہیں۔ جب تک حراست میں ہونے والی موتوں کی روٹین طریقے سےجانچ نہیں ہوگی اور انہیں سخت اور آزاد عدالتی جائزہ کے عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، تب تک لمبی بیماری میں مناسب علاج کے منتظر قیدی اپنی جان گنواتے رہیں گے۔
مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر ’افطار‘ کرنے اور مبینہ طور پر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے باقی چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔ اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمین کو ضمانت دی تھی۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘ اور ’قانون کی حکمرانی‘ جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اور عوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات – مثلاً کانوڑ یاترا – کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کا وسیع دائرہ اور فرقہ وارانہ رجحان بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔
کرناٹک حکومت کے 13 مئی کو جاری نئے فیصلے میں طلبہ کو یونیفارم کے ساتھ ’محدود روایتی اور رسم و رواج سے متعلق علامتیں‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے- جن میں حجاب، جنیئو، رودراکش وغیرہ شامل ہیں۔ فروری 2022 میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکنے والے تعلیمی اداروں کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس وقت کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے حجاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
گزشتہ 23 اپریل کو مہاراشٹر کے ضلع یوتمل میں ایلون اور ان کے ساتھی محمد نداف نثار قریشی کیرالہ کے پلکڑ ضلع کے پٹامبی قصبے سے پھلوں سے لدا ٹرک لے کر مدھیہ پردیش جا رہے تھے، جب راستے میں ہتھیاروں سے لیس افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کر دیا۔ قریشی شدید زخمی ہیں اور آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ اس کے باوجود پولیس نے ’روڈ ریج‘کا کیس درج کر کےہلکی دفعات ہی لگائی ہیں۔
اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔
گزشتہ مہینے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ایک لیڈر کی شکایت پر گنگا میں افطار کرنے کے معاملے میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں کو وارانسی کی ایک سیشن کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سیشن جج نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عمل سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے مقصد سے انجام دیا گیا تھا۔
وارانسی میں گنگا ندی کے بیچ کشتی پر افطار پارٹی کرنے اور بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں 14 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ایک عہدیدار کی شکایت پر درج کی گئی، جنہوں نے ان افراد پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے۔
واقعہ رودرپور کا ہے۔ پولیس کے مطابق ریشم باڑی علاقے کے رہنے والے شاہد نے جگت پورہ میں واقع اٹریا مندر کے پاس خالی زمین پر نماز ادا کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ان پر لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا اور انہیں مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
این بی ڈی ایس اے نے نیوز رپورٹنگ میں لفظ ’جہاد‘ کے استعمال کے حوالے سے خصوصی رہنما اصول تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زی نیوز نیٹ ورک کے مختلف چینلوں، ٹائمز ناؤ نو بھارت، نیوز18 اور این ڈی ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینلوں کو ان نشریات کے حوالے سےوارننگ دی ہے، جن میں کھانے میں مبینہ ملاوٹ کے واقعات کو ’تھوک جہاد‘ اور ’فوڈ جہاد‘ جیسے الفاظ کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
گڑیابند ضلع کے دتکیا گاؤں میں لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے مسلح سینکڑوں لوگوں کے ہجوم نے مبینہ طور پر 10 مسلم خاندانوں پر حملہ کیا، گاڑیوں اور گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے میں کم از کم چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فسادات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی ہیں، لیکن پولیس فورس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فی الحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ پوڑیا ہاٹ تھانہ حلقہ کے مٹیانی گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک ہجوم نے مویشی چوری کا الزام لگاتے ہوئے پپو انصاری کو پیٹ-پیٹ کر مار ڈالا۔ مبینہ طور پر وہ روزی روٹی کے لیے مویشیوں کی نقل و حمل کا کام کرتے تھے۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کا مویشی چوری سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ ان کے مذہب کی وجہ سے ہوا ہے۔
اتر پردیش کے فتح پور ضلع کے موئی گاؤں میں منگل کو ایک 200 سال پرانے مزار کو مبینہ طور پر منہدم کرنے کے الزام میں پولیس نے بجرنگ دل کے ایک کوآرڈینیٹر کو گرفتار کیا ہے اور کئی دیگر ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ توڑ پھوڑ کے دوران ملزم بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کا ذکر کر رہے تھے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ بی اے (آنرس) سوشل ورک کے سوالنامے میں ‘مسلمانوں پر مظالم’ سے متعلق سوال شامل کرنے پر ایک پروفیسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ متعدد طلباء نے اسے ‘اکیڈمک آزادی پر حملہ’ قرار دیتے ہوئے معطلی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشہور زمانہ مصنف سلمان رشدی نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی، مسلمانوں کی امیج کو نشانہ بنائے جانے اور صحافیوں – مصنفین پر دباؤ کے حوالے سےتشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی دہائیوں قبل ان خطرات کے آثار دیکھ لیے تھے، جن کی تصدیق اب ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے لالچ اور دھوکہ دہی کے ذریعے تبدیلی مذہب پر مکمل پابندی لگانے کی مانگ کرنے والے درخواست گزار وکیل اشونی اپادھیائے سے پوچھا کہ بین مذہبی شادی دھوکہ دہی ہے یا نہیں، یہ طے کرنے کا حق اصل میں کس کو ہے ۔
غیر امدادی یعنی نان-ایڈیڈ مدارس کی ابتر حالت اور اساتذہ کے مالی بحران کی وجہ سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔
اشعر نجمی کا ناول ‘کانگریس ہاؤس’ ایک بڑے سیاسی کھیل کو موضوع بناتے ہوئے جمہوریت کی ہوشیاری، ہوسناکی اور اس کی آمریت کے سارے بھید کھول دیتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ناول ہماری مٹی کا ہمزاد ہے، ہمارا ہمزاد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے دکھوں کا اور ہمارے نفسی وجود کا ہمزاد ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک ایک ہندو خاتون سے شادی کرنے کے بعد تقریباً چھ ماہ سے جیل میں بند ایک مسلمان شخص کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ دو بالغ افراد کے آپسی رضامندی سے ساتھ رہنے پر صرف اس لیے اعتراض نہیں کر سکتا کہ وہ الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
علی گڑھ میں چار مسلم نوجوانوں پر گائے کے گوشت کی اسمگلنگ کا الزام لگا کر ہندوتوا تنظیموں کے لوگوں نے حملہ کیا تھا۔ اب فرانزک رپورٹ میں گائے کے گوشت کے دعوے کو خارج کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 15 دنوں میں یہ دوسرا موقع تھا جب انہی ملزمین نے متاثرہ افراد کی گوشت لے جانے والی گاڑی کو اسی جگہ پرنشانہ بنایا۔
علی گڑھ کے فروزن فوڈ میٹ فیکٹری سے گوشت لے کر چار لوگ ایک پک اپ وین میں اترولی جا رہے تھے، جب ان کی گاڑی کو ہردوآ گنج پولیس اسٹیشن کے قریب روکا گیا اور ان کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔ معاملے سے متعلق ایک ایف آئی آر میں وی ایچ پی سے وابستہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور ان پر گاڑی کو چھوڑنے کے عوض پیسہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ورنداون کے مشہور بانکے بہاری مندر میں دیوتاؤں کے لیے تاج، کپڑے اور مالائیں مسلمان بناتے ہیں۔ ایسے میں پہلگام حملے کے بعد ہندوتوا گروپوں کی جانب سےمندر میں کام کرنے والے مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنےکی اپیل پر مندر نےتوجہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اتر پردیش کے جھانسی میں رمضان کے دوران ایک 40 سالہ مسلم خاتون کونابالغ ہندو لڑکی کا’مذہب تبدیل’ کروانےکے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ لیکن خاتون کا کہنا ہے کہ پڑوسی ہندو خاندان نے ان سے لیا گیا قرض واپس کرنے سے بچنے کے لیے ‘فرضی کہانی’ بنائی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آئے ایک ویڈیو میں میرٹھ کی آئی آئی ایم ٹی یونیورسٹی کے تقریباً 50 طلباء کیمپس میں ایک کھلے میدان میں نماز ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے، جس کے بعد ہندوتوا گروپوں نے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک طالبعلم کو حراست میں لیا گیا تھا، جس کے خلاف دیگر طلباء احتجاج کر رہے ہیں۔
اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ جب حکومت وقف (ترمیمی) بل پر جے پی سی کی رپورٹ پارلیامنٹ میں پیش کر رہی تھی، تو جئے شری رام کے نعرے لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ غریب مسلمانوں کے لیے یہ ترمیم کر رہی ہے، کیا ایسا کرنے کا یہی طریقہ ہے؟
وارانسی کے مسلم اکثریتی دال منڈی بازار میں سڑک کو چوڑا کرنے کی تجویز کے باعث فضا میں شدید کشیدگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دس مسجدیں اور تقریباً دس ہزار دکانیں اس کارروائی کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔ کاروباری اسے سیاسی چال مان رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ کاشی وشوناتھ کوریڈور میں عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے یہ توسیع ضروری ہے۔
سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2024 میں فرقہ وارانہ فسادات کے 59 واقعات میں سے 49 ان ریاستوں میں ہوئے، جہاں بی جے پی یا اس کے اتحاد والی سرکار ہے۔ سات واقعات کانگریس مقتدرہ ریاستوں میں اور تین ٹی ایم سی مقتدرہ مغربی بنگال میں ہوئے۔
اگر آپ نئے ہندوستان میں مسلمان ہیں، تو آپ کو مسلسل یہ خطرہ در پیش ہے کہ آپ کے نماز پڑھنے کے عمل کو جرم سمجھ لیا جائے۔
منگل کو مراد آباد کی ٹی ڈی آئی سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اس وقت احتجاج شروع ہوگیا، جب کالونی میں ایک مکان اس کے ہندو مالک نے ایک مسلمان ڈاکٹر کو بیچ دیا۔ رہائشیوں نے رجسٹری رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے آبادیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔
نسل در نسل ہم یہ مانتے رہے ہیں کہ ہندو کا متضاد لفظ مسلمان ہے۔ میں نے بچپن میں سنا تھا کہ مسلمان ہر کام ہندوؤں کے برعکس کرتے ہیں۔ یہی بات میری بیٹی کو اس کی ٹیچر نے بتایا۔ ہندو سمجھتے ہیں کہ مسلمان شدت پسند اور تنگ نظر ہوتے ہیں، ظالم ہوتے ہیں اور انہیں بچپن سے ہی تشدد کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کی مسجدوں میں اسلحے رکھے جاتے ہیں۔
تاریخ، ادب اور صحافت کے بامعنی امتزاج کو پیش کرتی یہ تحریریں آج کے ہندوستان اور مسلمان سے مکالمہ قائم کرتی ہیں اور اس سیاست کو سمجھنے میں بھی مدد کرتی ہیں جہاں ⸺کرسی⸺ کی بنیاد ہی نفرت اور تشدد پر ٹکی ہوئی ہے۔ جس کا واحد مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو عام کرنا، اس رویے کو نارملائز کرنا اور اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔
‘بلڈوزرکارروائی’ کے خلاف دائر درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک اس سلسلے میں رہنما خطوط طے نہیں ہو جاتے، تب تک اس کے سابقہ فیصلے کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں پر پابندی جاری رہے گی۔
قانونی ضابطہ اختیار کیے بغیر انسانوں کی رہائش کو اجاڑ دینا نہ صرف ملکی قانون بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ نے نام نہاد ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی اگلی شنوائی (ایک اکتوبر) تک اس کی اجازت کے بغیر کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس ہدایت کا اطلاق عوامی سڑکوں، فٹ پاتھ، ریلوے لائنوں یا غیر مجاز تعمیرات پر نہیں ہوگا۔
یوپی کے وزیر توانائی اے کے شرما نے ریاستی حکومت کی طرف سے بلڈوزر کے استعمال کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غنڈہ گردی اور ‘مافیا راج’ کو ختم کرنے کا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا طریقہ ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے پی ایم مودی قومی سطح پر بدعنوانی سے نمٹ رہے ہیں۔
ویڈیو: ملک کی مختلف ریاستوں میں سزا دینے کے نام پر ملزمین، خصوصی طور پر مسلمان ملزموں کے مکانات اور جائیدادوں کو مسمار کرنے کے خلاف ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کسی کو قصوروارٹھہرایا جائے تب بھی اس کا گھر نہیں گرایا جا سکتا۔ اس بارے میں معاملے کے وکیل صارم نوید اور دی وائر کے پالیٹکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد کے ساتھ میناکشی تیواری کی بات چیت۔
نام نہاد بلڈوزر ’جسٹس‘ کے خلاف تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی شخص قصوروار ہو تب بھی اس کی جائیداد کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اس سلسلے میں ملک بھر میں یکساں رہنما خطوط وضع کرنے کی بات کہی۔
رانا داس گپتا بنگلہ دیش کے سرکردہ اقلیتی رہنما ہیں۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد 52 اضلاع میں اقلیتوں پر حملے اور ہراسانی کے کم از کم 205 واقعات رونما ہوئے ہیں۔