(السٹریشن: پری پلب چکرورتی)

لوک سبھا انتخابات کی نگرانی کے لیے سیم پترودا اور سول سوسائٹی ماہرین کا گروپ بنائیں گے

دی سٹیزن کمیشن آن الیکشن اور انڈین اوورسیز کانگریس کے صدر سیم پترودا 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی نگرانی کے لیے ایک گروپ بنائیں گے۔ پترودا نے کہا کہ ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کرانے کے موجودہ نظام سے شہریوں کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔ اگر بھروسے کو واپس لاناہے تو انتخابات کرانے کا واحد طریقہ بیلٹ پیپر ہیں۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

وارانسی کی گیان واپی مسجد کے نیچے ایک بڑا ہندو مندر موجود تھا: اے ایس آئی کی سروے رپورٹ

یہ پتہ لگانے کے لیے کہ کیا گیان واپی مسجد پہلے سے موجود کسی مندر پر بنائی گئی تھی، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے عدالت کی ہدایت پر مسجد کا سروے کیا ہے ۔ ہندو فریق نے ایک عرضی میں یہاں مندر ہونے کادعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے مسجد کے احاطے میں ماں شرنگار گوری کی پوجا کے لیے داخلے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی 22 جنوری 2024 کو ایودھیا میں رام مندر کی پران — پرتشٹھا کی تقریب کے دوران۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

مودی کابینہ نے کہا – ملک جسمانی طور پر 1947 میں آزاد ہوا، اور روحانی طور پر 22 جنوری 2024 کو

مرکزی کابینہ نے ایودھیا میں رام مندر کی پران — پرتشٹھا کی تقریب کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے صدیوں پرانا خواب پورا کیا۔ آزاد ہندوستان میں رام مندر کی تحریک واحد تحریک تھی جس نے سب کو متحد کیا۔ کروڑوں ہندوستانی اس سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے تھے۔

(السٹریشن : پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

ممبئی: میرا روڈ تشدد کے متاثرین نے کہا – پولیس نے ہندوتوادی بھیڑ کو نہیں روکا

ایودھیا میں رام مندر پران — پرتشٹھا کے موقع پرتقریباً 300 نوجوانوں کے ایک گروپ نے ممبئی کے قریبی علاقوں میں ان دکانوں پر حملہ کیا، جن کے نام مسلمانوں جیسے لگ رہے تھے۔ ان دکانوں پر بھی حملہ ہوا، جنہوں نےبھگوا جھنڈے نہیں لگائے تھے۔ متاثرین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے دی وائر کو بتایا کہ کافی سمجھانے کے بعد پولیس نے چار معاملوں میں ایف آئی آر درج کی ہے۔

Arfa-ji-thumb-2

رام مندر شوبھا یاتراؤں میں تشدد، مسجد پر بھگوا جھنڈے لگانے کے واقعات سامنے آئے

ویڈیو: رام مندر کی پران — پرتشٹھا کے موقع پر مختلف ریاستوں میں نکالی گئی شوبھا یاتراؤں میں ہوئی جھڑپوں اور اتر پردیش میں کم از کم دو مسجدوں میں زبردستی گھس کر بھگوا جھنڈے لگانے کے واقعات کے بارے میں بات کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

فوجداری کے نئے قانون – شہریوں کے  تحفظ کے لیے ہیں یا پولیس راج قائم کرنے کے لیے؟

ہندوستان کے فوجداری نظام انصاف کو تبدیل کرنے کےلیے متعارف کرائے گئے تین بل بنیادی طور پر پرانے قوانین کی دفعات کی ہی نقل ہیں، لیکن ان نئے قوانین میں کچھ خاص تبدیلیاں کی گئی ہیں جو انھیں برطانوی قوانین سےبھی زیادہ خطرناک بناتی ہیں۔

فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ، پونے کا داخلی دروازہ۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر)

پونے: ایف ٹی آئی آئی میں ’رام کے نام‘ کی اسکریننگ سے پہلے طالبعلموں پر حملہ

انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طالبعلموں کے ایک گروپ نے منگل کی رات کو رام مندر تحریک پر مبنی آنند پٹ وردھن کی ڈاکیومنٹری ‘رام کے نام’ کی اسکریننگ کا اہتمام کیا تھا۔ طالبعلموں کے مطابق، دوپہر کے وقت تقریباً 25 لوگ کیمپس میں داخل ہوئے اور ‘جئے شری رام’ کے نعرے لگاتے ہوئے طالبعلموں کے ساتھ بدسلوکی کی اور مارپیٹ شروع کردی۔

دیوان جی کی بیگم شاہی مسجد۔ (تصویر: رعنا صفوی)

یوپی: رام مندر کی تقریب کے دن آگرہ کی مسجد میں بھگوا جھنڈا لہرا کر نعرے لگائے گئے، مقدمہ درج

آگرہ ضلع میں دیوان جی کی بیگم شاہی مسجد کے متولی کا الزام ہے کہ 22 جنوری کو لاٹھیوں کے ساتھ 1000-1500 لوگ زبردستی مسجد میں داخل ہوگئے، وہاں بھگوا جھنڈے لگائے اور مذہبی نعرے بھی لگائے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم، ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

ممبئی کے میرا روڈ میں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ (تصویر بہ شکریہ: اے این آئی)

مہاراشٹر: رام مندر تقریب کے دوران ہوئی جھڑپوں کے بعد ممبئی میں بلڈوزر کارروائی کی گئی

اتوار کو ممبئی کے میرا روڈ کے نیا نگر میں اس وقت جھڑپیں ہوئی تھیں، جب شری رام شوبھا یاترا علاقے سے گزر رہی تھی۔ 22 جنوری کی رات تک پولیس نے جھڑپ کے سلسلے میں ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ علاقے میں 15 ‘غیر قانونی’ جائیدادوں کو بلڈوز کر دیا گیا ہے۔

محمد عبدالحمید شیخ سٹیزن نگر میں واقع اپنے گھر کے باہر۔ (تصویر: تاروشی اسوانی)

گجرات فسادات کے گواہوں کو ملی پولیس سکیورٹی رام مندر کی تقریب سے ایک ماہ قبل ہٹا لی گئی تھی

گجرات فسادات کے مسلمان گواہوں کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی پران — پرتشٹھا کی تقریب کے قریب آتے ہی ان کی سکیورٹی واپس لے لینے کی کارروائی نے ان کے ڈر کو پھر سے بیدار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رام مندر کی مانگ نے ہی اس پورے باب کو جنم دیا تھا اور بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا۔

Arfa-Ji-thumb

رام مندر میں پران — پرتشٹھا: اب کیا ہے آگے کا راستہ

ویڈیو: رام مندر کی پران — پرتشٹھا کی تقریب کے حوالے سے پروفیسر اپوروانند، مصنف دھیریندر جھا، ولیہ سنگھ، دی وائر کے مدیران سدھارتھ وردراجن اور سیما چشتی کے ساتھ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

Arfa-Ji-Modi-Ji-thumb

رام مندر یا ’مودی کا مندر‘

ویڈیو: ایودھیا میں رام مندر کی پران — پرتشٹھا کو پورے طور پر ‘سیاسی’ بنا دینے کے پیش نظر کیا ہندوؤں کو اپنے محاسبہ کی ضرورت ہے؟ اس بارے میں دی وائر کے مدیران — سدھارتھ وردراجن اور سیما چشتی سے تبادلہ خیال کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

22 جنوری 2024 کو رام مندر کی تقریب میں موجود سابق چیف جسٹس جسٹس یو یو للت (درمیان میں)۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

رام مندر کی تقریب میں چار سابق سی جے آئی، 12 سے زیادہ سابق جج اور ماہر قانون نے شرکت کی

ایودھیا میں 22 جنوری کو رام مندر کی پران—پرتشٹھا کی تقریب میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جے ایس کھیہر، سابق سی جے آئی جسٹس وی این کھرے، سابق سی جے آئی این وی رمنا اور سابق سی جے آئی یو یو للت نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ جسٹس (ریٹائرڈ) ارون مشرا سمیت ایک درجن سے زیادہ سابق جج بھی موجود تھے۔

مدھیہ پردیش کے جھابوآ میں ایک چرچ پر بھگوا لہرائے جانے کی تصویر۔ (تصویر: اسکرین شاٹ)

رام مندر کے افتتاح سے قبل مختلف ریاستوں میں جھڑپیں، مدھیہ پردیش میں چرچ پر بھگوا جھنڈا لگایا گیا

ایودھیا میں رام مندر کی پران—پرتشٹھا کی تقریب سے قبل مہاراشٹر، گجرات اور مدھیہ پردیش سے فرقہ وارانہ تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ مہاراشٹر کے میرا بھایندر-وسئی ورار علاقے میں ایک مذہبی جلوس کے دوران مختلف گروہوں کے درمیان کچھ جھڑپیں ہوئیں۔ گجرات کے مہسانہ ضلع میں مذہبی جلوس نکالنے کے دوران پتھراؤ کی اطلاع ہے۔

ایودھیا میں رام مندر کی پران—پرتشٹھا کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)

رام اتسو بنام جشن جمہوریہ !

ہندوستان ایک ریاست جمہوری کے طور پر اس حقیقت کو کیسے فراموش کرے گا کہ اس کے لیے وزیر اعظم نے ‘دھرم آچاریہ’ کا چولا پہن لیا تھا اور ان کے ‘سپہ سالار’ انھیں وشنو کا اوتار کہہ رہے تھے اور پران—پرتشٹھا کی تاریخ کو 15 اگست 1947 جیسا اہم بتا رہے تھے۔

15 اگست کو مجرموں کی جیل سے رہائی کے بعد ان کا خیرمقدم کیا گیا تھا۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

گجرات: بلقیس بانو کیس کے 11 مجرموں نے سرینڈر کیا

سپریم کورٹ نے 8 جنوری کو بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ کرنے والے اور ان کے خاندان کے قتل کے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کوخارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ گجرات حکومت کے پاس انہیں وقت سے پہلے رہا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ رہائی کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے عدالت نے مجرموں کو دو ہفتوں کے اندر دوبارہ جیل میں سرینڈر کرنے کو کہا تھا۔

'رام کے نام' ڈاکیومنٹری کا اسکرین شاٹ۔ (تصویر بہ شکریہ: یوٹیوب)

تلنگانہ میں ’رام کے نام‘ ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ کے خلاف ایف آئی آر درج، چار افراد گرفتار

تلنگانہ کے رچاکونڈہ کے ایک ریستوراں میں آنند پٹ وردھن کی ڈاکیومنٹری ‘رام کے نام’ کی اسکریننگ کی گئی تھی۔ پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ 22 جنوری کو ایودھیا میں رام مندر کی پران—پرتشٹھا کی تقریب سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے اس ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو بشکریہ: پی آئی بی)

ایودھیا میں بھگوان رام آئیں گے یا پی ایم مودی کو آنا ہے؟

پران -پرتشٹھا کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد کی تیاریاں رام للا کے استقبال کی تیاریوں سے کسی لحاظ سے کمتر نہیں ہے۔ اسٹریٹ لائٹس پر مودی کے ساتھ بھگوان رام کے کٹ آؤٹ لگے ہوئے ہیں، جن کی اونچائی پی ایم کے کٹ آؤٹ سے بھی کم ہے۔ ایسے میں یہ گمان ہونا فطری ہے کہ 22 جنوری کو ایودھیا میں بھگوان رام آئیں گے یا وزیر اعظم مودی کو آنا ہے؟

رام مندر کا مجوزہ ڈیزائن۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک/شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

کیا رام کو ایک بار پھر بن باس پر بھیجا جا رہا ہے؟

رام تو دل میں رہتے تھے۔ مگر لگتا ہے ان کو دل سے نکال کر مندر میں بھیج کر ایک بار پھر بن باس پر بھیجا جا رہا ہے۔ رامائن کے مطابق تو وہ بارہ سال بعد ایودھیا واپس آگئے تھے، مگر اب دل میں کب واپس آئیں گے، یہ وقت ہی بتائے گا۔

روہنگیا پناہ گزین کیمپ۔ (تصویر: آستھا سویہ ساچی)

روہنگیا کے خلاف آن لائن نفرت کو نظر انداز کرنے پر فیس بک کے خلاف عدالت پہنچے پناہ گزیں

نسلی تشدد کی وجہ سے میانمار سے بھاگنے پر مجبور ہونے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہر دم تشدد ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

ایودھیا میں شرنگار ہاٹ سے ہنومان گڑھی کے راستے رام مندر کو جانے والا بھکتی پتھ۔ (تصویر: شروتی سونکر)

کیا یہ امرت کال ہے؟

ہندو معاشرہ یا یوں کہیں کہ پورا ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب کو اپنا جائزہ لینے اور اپنے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خواہ اقتدارمیں بیٹھے لوگ اسے امرت کال کہیں، لیکن یہ سنکرمن کال یعنی متعدی مرض کا زمانہ ہے۔ حماقت اور نفرت کا متعدی مرض، جہاں قدرومنزلت اور وقار کے ہر پیمانے کو مجروح / پامال کیا جا رہا ہے۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ)

کیا اس وقت رام مندر ہندوؤں کی مذہبیت کو ظاہر کر رہا ہے؟

ایودھیا کو ہندوستان کی ، یا کہیں کہ ہندوؤں کی مذہبی راجدھانی کے طور پر قائم کرنے کے لیے سرکار کی سرپرستی میں مہم چل رہی ہے۔ 22 جنوری 2024 کو لوگوں کے ذہنوں میں 26 جنوری یا 15 اگست سے بھی بڑا اور اہم دن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ادے ندھی اسٹالن۔ (تصویر بہ شکریہ: Facebook/@UdhayStalin)

مندر بننے سے کوئی مسئلہ نہیں، مسجد گرا کر بننے والے رام مندر سے اتفاق نہیں: ادےندھی اسٹالن

تمل ناڈو کے وزیر ادےاندھی اسٹالن نے اپنے دادا ایم کے کروناندھی کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم کے کسی خاص مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہب کو سیاست کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : دی وائر)

گجرات حکومت نے 2002-06 کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والوں پر سوال اٹھایا

سپریم کورٹ 2007 میں صحافی بی جی ورگیز اور نغمہ نگار جاوید اختر کی جانب سے دائر دو الگ الگ عرضیوں پر شنوائی کر رہی ہے، جس میں گجرات میں 22 مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس دوران نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

Kapil-Sibal-Farooq-Abdullah-thumb

جو مودی سرکار کر رہی ہے وہ رام کی اخلاقیات کے منافی ہے: فاروق عبداللہ

ویڈیو: جموں و کشمیر کے حالات، رام مندر، فرقہ پرستی، مودی حکومت کے کام کاج سمیت مختلف مسائل پر جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے ساتھ سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کی بات چیت۔

گودھرا جیل سے باہر نکلتے  مجرم۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب/ٹوئٹر/یوگیتا بھیانا)

بلقیس کیس: مجرموں نے سرینڈر کے لیے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگا، عدالت شنوائی کو راضی

گجرات حکومت کی جانب سے بلقیس بانو کیس میں 11 مجرموں کو دی گئی سزا معافی کو رد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 8 جنوری کو انہیں جیل حکام کے سامنے دو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کو کہا تھا۔ ان میں سے 10 نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے اور سرینڈر کرنے کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا ہے۔

ایودھیا میں بن رہے رام مندر کا مجوزہ ڈیزائن۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@ShriRamTeerth)

رام مندر: بار کاؤنسل نے سی جے آئی سے 22 جنوری کو تمام عدالتوں میں چھٹی کی درخواست کی

بار کاؤنسل آف انڈیا کے صدر منن کمار مشرا نے چیف جسٹس (سی جے آئی) ڈی وائی چندر چوڑ کو خط لکھ کر کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح 22 جنوری 2024 کو ہونا ہے۔ یہ تقریب ملک بھر کے لاکھوں لوگوں کے لیے انتہائی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہے۔

Health-Video-Ep-2-Thumb

سوال صحت کا: صحت پر خرچ کرنے میں حکومت کی تنگدلی

ویڈیو: ہندوستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم پر دی وائر کی نئی سیریز کے دوسرے ایپی سوڈ میں ہندوستانی حکومت کے صحت پر اخراجات کے مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔ اس موضوع پر دو ماہرین – او پی جندل یونیورسٹی کی اندرانیل مکھوپادھیائے اور امبیڈکر یونیورسٹی کی دیپا سنہا سے بات کر رہی ہیں عارفہ خانم شیروانی۔

Venu-Santosh-Ji-thumb

مودی سرکار کے 25 کروڑ لوگوں کے غربت سے باہر آنے کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟

ویڈیو: نیتی آیوگ کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں پچھلے 9 سالوں میں 24.8 کروڑ سے زیادہ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات نے اس دعوے اور اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بارے میں ماہر اقتصادیات سنتوش مہروترا سے بات کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو۔

سابق چیف جسٹس اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@himantabiswa)

رام مندر کے حق میں فیصلہ سنانے والے سابق سی جے آئی گگوئی کو آسام کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جائے گا

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اعلان کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی کو آسام کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ‘آسام ویبھو’ سے نوازا جائے گا۔ 2019 میں گگوئی کی سربراہی والی بنچ نے رام جنم بھومی-بابری مسجد ملکیت تنازعہ میں مندر کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔

 (علامتی تصویر بہ شکریہ: Kjell Meek/Pixabay)

ماہرین اقتصادیات نے کہا — ملک میں غریبی گھٹنے کا نیتی آیوگ کا دعویٰ گمراہ کن ہے

نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پچھلے 9 سالوں میں ملک میں 24.8 کروڑ سے زیادہ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔ ماہرین نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان دعووں کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا کثیر الجہتی غربت انڈیکس (ایم پی آئی) غریبی کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ مانک ساہا اور وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@DrManikSaha2)

تریپورہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا – پی ایم مودی کی قیادت میں ملک پہلے سے ہی ’رام راجیہ‘ کا احساس  کر رہا ہے

تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی کی حکومت میں ترقی نے سب سے غریب لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے اور اس طرح کی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ترقی صرف ‘رام راجیہ’ میں ہی ممکن ہے۔

FotoJet (7)

بلقیس کی انصاف کی لڑائی گجرات کے دو افسران کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے

سال 2002 میں بلقیس کے ساتھ ہوئی زیادتی کے بعد گجرات کے دو افسران – گودھرا کی اس وقت کی ڈی ایم جینتی روی اور گودھرا سول اسپتال کی ڈاکٹر روہنی کٹی نے تمام سیاسی اور انتظامی دباؤ کے باوجودجس ایمانداری اور دیانت داری سےاپنا کردار نبھایا، وہ واقعی ایک مثال ہے۔

 (علامتی تصویر بشکریہ: knowlaw.in)

یوپی: کرکٹ میچ کے تنازعہ میں دلت نوجوان کی بے دردی سے پٹائی، چہرے پر پیشاب کیا

یہ واقعہ 13 جنوری کو لکھنؤ کے اندرا نگر تھانہ حلقے میں پیش آیا تھا، جہاں ایک 18 سالہ دلت لڑکے کو کرکٹ میچ کے دوران جھگڑے میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے مارا پیٹا تھا۔ اس کے بعد اسے کئی بار زدوکوب گیا اور مبینہ طور پر اس کے چہرے پر پیشاب کیا گیا۔