فکر و نظر

’مودی جی منی پور کو مرہم نہیں، زخم دے رہے ہیں‘

ویڈیو: منی پور میں جاری تشدد پر وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیامنٹ میں بیان کے مطالبے کو لے کر حکمراں این ڈی اے کو اپوزیشن ‘انڈیا’ اتحاد کے ساتھ تعطل سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن کی جانب سے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بارے میں کانگریس ترجمان ڈاکٹر گورو ولبھ سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

کیوں منی پور کے واقعات مسلسل گجرات فسادات کی یاد دلا رہے ہیں

بے گناہوں کے قتل، خواتین کے ساتھ صریح زیادتیاں، اپنے ہی ملک میں پناہ گزین بننے کو مجبور لوگ، شرپسندوں کے خلاف قانون کے محافظوں کی سست کارروائی، تشدد کے مذہبی یا فرقہ وارانہ ہونے کے واضح اشارے … ہم واقعات کے سلسلے کو دہراتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، بس درمیان میں ایک طویل وقفہ ہے۔

فسادات میں خواتین کی بے حرمتی کی داستان

پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ منی پور ویڈیو نے قوم کو شرمسارکر دیا ہے۔ مگر گجرات میں ان کی حکومت کے دوران جو کھیل کھیلا گیا وہ شاید چنگیز و ہلاکو کو بھی شرمسار کرنے کے لیے کافی ہے۔شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ آج کے ہندوستان میں بربریت کا ہر ایک واقعہ گجرات ماڈل کا حصہ ہے۔ لنچنگ، زمینوں پر قبضہ، جمہوریت، تعلیمی اور سائنسی اداروں کو ختم کرنا، میڈیا پر کنٹرول، خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی حملے، آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملے – ان سب کا تجربہ گجرات میں کیا گیا ہے۔

ایودھیا کی ’کھجور والی مسجد‘ چرچے میں کیوں ہے

ایودھیا کے گدڑی بازار میں واقع کھجور والی مسجد کا ایک مینار شہر میں زیر تعمیر ‘رام پتھ’ کی مجوزہ چوڑائی کے دائرے میں آ رہا ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی جانب سے مسجد کمیٹی کو مینار ہٹانے کا نوٹس دیے جانے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہنچ چکا ہے۔

منی پور وائرل ویڈیو پر بھی مودی کی نفرتی فوج نے فرضی خبر سے بنایا فرقہ وارانہ ماحول

ویڈیو: نیوز ایجنسی اے این آئی نے منی پور میں کُکی خواتین کی برہنہ پریڈ کے واقعہ کے حوالے سے فرضی خبر ٹوئٹ کیا۔ جس میں عبد الحلیم نامی شخص کو ملزم بتایا گیا۔ بتایا گیا کہ منی پور پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ حالاں کہ ان گرفتاری ایک دوسرے معاملے میں ہوئی تھی۔ بعد میں اے این آئی نے اس ٹوئٹ کو ہٹا لیا۔

منی پور کا کُکی اسی طرح خوفزدہ ہے جس طرح نواکھلی کا ہندو تھا، لیکن کیا ملک میں کوئی گاندھی ہے

ہندوستان کی تاریخ میں نواکھلی کا تشدد اور مہاتما گاندھی کا وہاں رہ کر قیام امن کے لیے کردار ادا کرنا دونوں ہی قابل ذکر ہیں۔ اگر منی پور میں واقعی امن قائم کرنا ہے، تو وہاں کسی مہاتما گاندھی کو جانا ہوگا۔

منی پور پر لمبی خاموشی کے بعد بیان دے کر وزیر اعظم نے اپنی پرتشدد سیاست کو ہی اجاگر کیا ہے

ویڈیو: منی پور میں دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری نسلی تصادم کے درمیان وہاں خواتین کے ساتھ ہوئی زیادتی کا ایک ہولناک ویڈیو سامنے آیا، اس کے بعد پہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا۔ اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور ڈی یو کے پروفیسر اپوروانند ۔

منی پور ویڈیو: مودی جی! اب بیان نہیں، استعفیٰ دیجیے

ویڈیو: منی پور میں خواتین کی برہنہ پریڈ کے واقعے کا خوفناک ویڈیوسامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار منی پور تشدد کے حوالے سےکوئی بیان دیا ہے۔ اس بارے میں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

ارندھتی را ئے کی خصوصی تحریر — ہندوستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری کا بھرم

امریکی صدر جو بائیڈن کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت کا کلیدی اصول ‘جمہوریت کا تحفظ’ ہے۔ یہ قابل ستائش امرہے، لیکن ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے وقت واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ امریکی حکمراں جس شخص کے آگے سجدہ ریز تھے، اس نے بڑے منظم طریقے سے ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔

آرٹیکل 370: کیا سپریم کورٹ تاریخ رقم کرنے کو ہے؟

کشمیر کے معاملے پر چاہے سپریم کورٹ ہو یا قومی انسانی حقوق کمیشن، ہندوستان کے کسی بھی مؤقر ادارے کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے، مگر چونکہ اس مقدمہ کے ہندوستان کے عمومی وفاقی ڈھانچہ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچہ اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ امید ہے کہ وہ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ داد رسی کا انتظام کر پائےگی۔

روپیش اور دیگر تمام صحافیوں کی رہائی نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد کا ایک لازمی حصہ ہے

روپیش کمار سنگھ کی دوبارہ گرفتاری کو ایک سال ہو گیا ہے اور اس دوران انہیں چار نئے مقدمات میں ملزم بنا دیا گیا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم مودی کے امریکہ دورے کے موقع پر ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے پورے صفحے پر ہندوستانی جیلوں میں بند صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ہندوستان میں بھی اس نوع کا مطالبہ ضروری ہے۔

شمال–مشرق میں پچھلے 7 سالوں کے دوران منی پور حکومت نے سب سے زیادہ گن لائسنس جاری کیے

ویڈیو: منی پور میں گزشتہ دو ماہ سے اکثریتی میتیئی کمیونٹی اور کُکی برادری کے درمیان نسلی تشدد جاری ہے۔ اب آر ٹی آئی کے تحت یہ جانکاری ملی ہے کہ شمال–مشرقی ریاستوں میں منی پور حکومت نے پچھلے 7 سالوں میں سب سے زیادہ بندوق کے لائسنس جاری کیے ہیں۔

وے گنہ گار لڑکیاں؟

کتنی شرمناک بات ہے کہ ملک کا نام روشن کرنے والی کھلاڑیوں نے خود وزیر اعظم سے شکایت کی کہ ایک ایم پی نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی، لیکن سب جانتے ہوئے بھی وزیر اعظم ڈھائی سال سے خاموش ہیں اور ایک مافیا کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

لوگ اپوزیشن پر بھروسہ کر رہے ہیں، ہم ایک اچھی حکومت بنائیں گے: ہریش راوت

ویڈیو: عام انتخابات سے پہلے مساوی شہریت کی بحث کو کانگریس کےسینئر لیڈر ہریش راوت انتخابی داؤ مانتے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد، اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور آئندہ انتخابات کے لیے کانگریس کی حکمت عملی کے بارے میں ان سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

کاجول کے ہندوستانی رہنماؤں کی تعلیم والے بیان پر مودی سپورٹر کیوں بھڑکے؟

ویڈیو: گزشتہ ہفتے اداکارہ کاجول نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘ہم پر غیر تعلیم یافتہ سیاستدانوں کی حکومت ہے’۔ حالاں کہ انہوں نے کسی لیڈریا پارٹی کا نام نہیں لیا تھا، لیکن انہیں خاص طور پر مرکزی حکومت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹرول کیا گیا۔ اس کے بعد کاجول کو وضاحت پیش کرنی پڑی۔

سمپت پرکاش: کشمیر کی ایک اور تاریخ خاموش ہوگئی

سمپت پرکاش ان گنے چنے کشمیری پنڈتوں میں تھے، جو اکثریتی آبادی کا دکھ درد سمجھتے تھے، اگر ان سے کوئی کشمیری پنڈتوں کی ہلاکت پر سوال کرتا، تو وہ جواب دیتے تھے کہ اگر ایک کشمیری پنڈت مارا گیا تو اس کے مقابل 50کشمیری مسلمان بھی مارے گئے اور ان کے بارے میں کسی کو کوئی تشویش کیوں نہیں ہے؟

کس طرح ریڈیو کو برصغیر میں سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے

ویڈیو: برصغیر پاک و ہند میں ریڈیو کی تاریخ کو مؤرخ اور کولمبیا یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ایزابیل الونسو نے اپنی کتاب ‘ریڈیو فار دی ملینز: ہندی-اردو براڈکاسٹنگ اکراس بارڈر’ میں قلمبند کیا ہے۔ ان سے اس کتاب، آزادی سے پہلے اور بعد کی براڈ کاسٹنگ پالیسیوں اور ان پر سامعین کے ردعمل کے بارے میں بات چیت۔​

یونیفارم سول کوڈ کی سیاست کیا ہے؟

ویڈیو: پچھلے دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ ملک کی ضرورت ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ این ڈی اے کے کچھ اتحادی بھی اس کے خلاف ہیں۔ اس بارے میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر: میونسپل انتخابات میں 3 سال کی تاخیر؛ کیا بی جے پی الیکشن لڑنے سے ڈر رہی ہے؟

ویڈیو: مہاراشٹر میں23 میونسپل کارپوریشن، 26 ضلع پریشد اور 385 نگر پنچایتوں کے انتخابات ایک سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔ یہی نہیں، نوی ممبئی، کولہاپور، تھانے، وسئی، ورار، کلیان ڈومبیولی کے انتخابات میں تین سال کی تاخیر ہوچکی ہے۔

نریندر مودی کی سی بی آئی اور ای ڈی اب بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے پیچھے

ویڈیو: سی بی آئی نے نوکری کےبدلے زمین کے معاملے میں نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت 17 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ معاملہ کیا ہے، نریندر مودی حکومت کے دورمیں سی بی آئی اور ای ڈی جیسی مرکزی تفتیشی ایجنسیاں کیسے کام کر رہی ہیں؟

’بی جے پی اب کوئی بھی حکومت گرا سکتی ہے، الیکشن کا کوئی مطلب نہیں رہا‘

ویڈیو: مہاراشٹرمیں شیوسینا کے بعد اب این سی پی میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور پارٹی کے کچھ ایم ایل اے بی جے پی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس پیش رفت کے قانونی پہلوؤں پرسینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

جموں و کشمیر کو اب صرف عدلیہ کا ہی سہارا ہے

محبوبہ مفتی لکھتی ہیں، جموں و کشمیر کے لوگوں نے جمہوریت اور سیکولرازم کی مشترکہ اقدار پرجس ملک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، اس نے ہمیں مایوس کر دیا ہے۔ اب صرف عدلیہ ہی ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کرسکتی ہے۔

کیا 2024 کی جیت کے لیے یونیفارم سول کوڈ بی جے پی کا آخری ہتھیار ہے؟

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں یکساں سول کوڈ کی پرزور وکالت کی تھی۔ کیا یہ اگلے عام انتخابات سے پہلے بی جے پی کی طرف سے کوئی انتخابی چال ہے؟ اس بارے میں بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

ویگنر کی بغاوت: حکومتوں کے لیے ایک سبق

عسکری گروپ ویگنر کی بغاوت نے ایک بار پھر پرائیویٹ ملیشیاز کو سیاسی تنازعات یا جنگوں میں استعمال کرنے کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ دراصل جو حکومتیں شورش یا عوامی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں، ان کو جا ن لینا چاہیے کہ وہ ایسی عفریت پیدا کر تی ہیں، جو کسی نہ کسی وقت ان کو ہی نگل سکتے ہیں۔ حکومتوں کو ویگنر کے واقعہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

این سی پی لیڈروں کو ’کرپٹ‘ بتا کر حکومت میں شامل کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی کیا بتاتی ہے؟

ویڈیو: مہاراشٹر میں اتوار کو این سی پی کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے سے تقریباً پانچ دن پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اس پارٹی کے لیڈروں پر بدعنوانی کے الزامات لگا رہے تھے۔ اب بی جے پی کی قیادت والی ایکناتھ شندے حکومت میں شامل ہونے والے نو این سی پی لیڈروں میں سے پانچ وہی ہیں ، جو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات تک سیاسی تماشا جاری رہے گا

این سی پی میں پھوٹ کے بعد شرد پوار کے اگلے قدم کا انتظار ہے۔ مہاراشٹرکو بخوبی جاننے کا دعویٰ کرنے والے بعض سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ پوار کو اس بات کا علم تھا اور یہ سب ان کی خاموش رضامندی سے ہوا ہے۔

وہائٹ ہاؤس میں نریندر مودی کا سفید جھوٹ

ایک بین الاقوامی فورم پر ہندوستان میں مسلمانوں کو منظم طورپر نشانہ بنانے کے حوالے سے نریندر مودی کی دوٹوک الفاظ میں تردید ان صحافیوں کے لیے حیران کن ہے جو ان کی حکومت میں ملک کے مسلمانوں کے ساتھ روزانہ ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم و جبرکو درج کر رہے ہیں۔

اکثریت پسندی سے ہندوؤں کو وہ تکلیف کبھی نہیں ہو گی جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہوتی ہے

اکثریت پسندی (میجوریٹیرین ازم) کا جو مطلب مسلمانوں کے لیے ہے، وہی ہندوؤں کے لیے نہیں ہے ۔ وہ اس کی ہولناکی کو کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔ مثلاً، ڈی یو کی صد سالہ تقریبات میں جئے شری رام سن کر ہندوؤں کو وہ خوف محسوس نہیں ہوگا، جو مسلمانوں کو ہو گا، کیونکہ انہیں یاد ہے کہ ان پر حملہ کرتے وقت یہی نعرہ لگایا جاتا ہے۔

دو ماہ سے جاری تشدد کے باوجود وزیر اعظم منی پور کا ’م‘ بھی بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں

تمام سروے بتاتے ہیں کہ نریندر مودی ملک کے سب سے مقبول رہنما ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘انتہائی’ مقبول مودی فرقہ وارانہ فسادات، احتجاجی مظاہرے یا نسلی تشدد کے دوران کوئی اپیل جاری کیوں نہیں کرتے؟ مہاتما گاندھی کے گجرات سے آنے والے مودی منی پور کی مختلف برادریوں کے درمیان جا کر امن کی اپیل کیوں نہیں کرتے؟ دراصل ان کی مقبولیت محض انتخابی ہے۔

کیا نئے یوٹیوبرز کے سہارے 2024 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہےمودی سرکار؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں سے مودی حکومت کے کئی وزیرسوشل میڈیاانفلوئنسر کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان یوٹیوبرزکو کیسے منتخب کیا گیا ہے،کیا ان انٹرویوز کی قواعد کے پس پردہ کوئی سیاسی چال ہے، بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

منی پور تشدد کے درمیان ہندوستانی فوج کی ریاستی خواتین سے اپیل کے کیا معنی ہیں؟

ویڈیو: 26 جون کو ہندوستانی فوج کے اسپیئر کارپس کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں خواتین مظاہرین ‘مسلح فسادیوں’ کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اور ریاست میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مداخلت کر رہی ہیں۔ انہوں نے تعاون کی اپیل بھی کی تھی۔

’شمالی ہندوستان کی تین چار ریاستیں 2024 کے نتائج کا فیصلہ کریں گی‘

ویڈیو: سینئر صحافی ارملیش کا خیال ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات قومی سیاست میں ایک نیا موڑ ضرور ہے ، لیکن عام انتخابات الگ طرح سے ہوتے ہیں، جہاں اتر پردیش جیسی کچھ ریاستیں اہم رول میں ہوتی ہیں۔ اس بارے میں ان کا نظریہ۔

شمال–مشرقی ریاست منی پور میں تشدد کی لہر

منی پور میں ویسے تو امن کی صورتحال ہمیشہ ہی خراب رہی ہے۔ مگر وزیر اعظم نریند ر مودی اور ان کے دست راست امت شاہ نے مکر و فریب کا سہار ا لےکر ایک ایسا امن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، جو بس اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف تھا۔ حقیقی امن کے لیے کوششیں کرنے کے بجائے، مختلف گروپوں کو الجھا کر وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے کام کیے گئے۔

ہم لوگوں سے کیے گئے پرائیویسی کے وعدے کو کبھی نہیں توڑیں گے: سگنل پریسیڈنٹ میریڈیتھ وہیٹیکر

انٹرویو: سوشل میڈیا پلیٹ فارم سگنل کی پریسیڈنٹ میریڈیتھ وہیٹیکر کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹلیجنس کو ریگولیٹ کیا جانا چاہیے۔ نیز، ان کا ماننا ہے کہ صارفین کی پرائیویسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

اندرا گاندھی نریندر مودی جتنی ’خوش قسمت‘ ہوتیں، تو انہیں ایمرجنسی کی ضرورت نہ پڑتی !

اندرا گاندھی اگر نریندر مودی کی طرح ایمرجنسی کے بغیرہی ویسے حالات پیدا کر کے جمہوری اور آئینی اداروں کو تنزلی کی راہ پر گامزن کر سکتیں، توبھلا وہ ایمرجنسی کا اعلان کیوں کراتیں؟